آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 353 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 353

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 353 حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں الزام ہے کہ وہ بہت لاڈلی تھیں اور پھر عمر کے حساب سے بھی بڑی غلط باتیں کی جاتی ہیں لیکن عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ یہ فرماتے ہیں کہ بعض راتوں میں میں ساری رات اپنے خدا کی عبادت کرنا چاہتا ہوں جو مجھے سب سے زیادہ پیارا ہے۔(الدر المنشور في التفسیر بالما و لا مام اسیوطی سورة الدخان زیر آیت نمبر ۴ جلدی صفحه ۳۵ دارا حیاء التراث العربی بیروت ۲۰۰۱) پس جن کے دماغوں میں غلاظتیں بھری ہوئی ہوں انہوں نے یہ الزام لگانے ہیں اور لگاتے رہے ہیں ، آئندہ بھی شاید وہ ایسی حرکتیں کرتے رہیں جیسے کہ میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں۔مگر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے جہنم کو بھرتا رہے گا۔پس ان لوگوں کو اور ان کی حمایت کرنے والوں کو خدا تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کے لئے بڑی غیرت رکھتا ہے۔ماخوذ از تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ نمبر ۳۷۸) خطبات مسرور جلده ۱، صفحه ۳ ۵۷۴،۵۷) حضرت عائشہ سے بدن لگانا وغیرہ کے اعتراضات پادری فتح مسیح نے تعصب کے ساتھ آپ پر یہ اعتراض کئے کہ حضرت عائشہ سے بدن لگانا وغیرہ خلاف شرع تھا اس کے رد میں حضور علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں کہ : پھر آپ حضرت عائشہ صدیقہ کا نام لے کر اعتراض کرتے ہیں کہ جناب مقدس نبوی کا بدن سے بدن لگانا اور زبان چوسنا خلاف شرع تھا اب اس نا پاک تعصب پر کہاں تک روویں۔اے نادان جو حلال اور جائز نکاح ہیں۔ان میں یہ سب باتیں جائز ہوتی ہیں یہ اعتراض کیسا ہے کیا تمہیں خبر نہیں کہ مردی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے پیجوا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں جیسے بہرہ اور کونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض