آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 21
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات عشق رسول کا اظہار ۲۱ ستمبر ۲۰۱۲ء کے خطبہ جمعہ میں ان الفاظ میں فرماتے ہیں: م اس عظیم محسن انسانیت کے بارے میں ایسی اہانت سے بھری ہوئی فلم پر یقینا ایک مسلمان کا دل خون ہونا چاہئے تھا اور ہوا اور سب سے بڑھ کر ایک احمدی مسلمان کو تکلیف پہنچی کہ ہم آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق اور غلام صادق کے ماننے والوں میں سے ہیں جس نے ہمیں آنحضرت ﷺ کے عظیم مقام کا ادراک عطا فرمایا۔پس ہمارے دل اس فعل پر چھلتی ہیں۔ہمارے جگر کٹ رہے ہیں۔ہم خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہیں کہ ان ظالموں سے بدلہ لے۔اُنہیں وہ عبرت کا نشان بنا جو رہتی دنیا تک مثال بن جائے۔ہمیں تو زمانے کے امام نے عشق رسول میں اللہ کا اس طرح اور اک عطا فرمایا ہے کہ جنگل کے سانپوں اور جانوروں سے صلح ہو سکتی ہے لیکن ہمارے آقا و مولی حضرت محمد رسول اللہ اللہ حضرت خاتم الانبیاء کی توہین کرنے والے اور اس پرضد کرتے چلے جانے والے سے ہم صلح نہیں کر سکتے“۔(خطبات سرور جلد اصفر ۵۶۳) بے ہودہ کارٹونز کی اشاعت کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ نے ۱۰ رفروری ۲۰۰۶ء کے خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو عشق رسول کی خاطر اپنے حقیقی رد عمل کا اظہار ان الفاظ میں بیان فرمایا : ح آپ میں سے ہر بچہ ، ہر بوڑھا، ہر جوان، ہر مرد اور ہر عورت بیہودہ کارٹون شائع ہونے کے رد عمل کے طور پر اپنے آپ کو ایسی آگ لگانے والوں میں شامل کریں جو کبھی نہ بجھنے والی آگ ہو، جو کسی ملک کے جھنڈے یا جائیدادوں کو لگانے والی آگ نہ ہو جو چند منٹوں میں یا چند گھنٹوں میں بجھ جائے۔اب بڑے جوش سے لوگ کھڑے ہیں (پاکستان کی ایک تصویر تھی) آگ لگا رہے ہیں جس طرح کوئی بڑا معرکہ ماررہے ہیں۔یہ پانچ منٹ میں آگ بجھ جائے گی ، ہماری آگ تو ایسی ہونی چاہئے جو ہمیشہ لگی رہنے والی آگ ہو۔وہ آگ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کی آگ