آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 22 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 22

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 22 جو آپ کے ہر اسوہ کو اپنانے اور دنیا کو دکھانے کی آگ ہو۔جو آپ کے دلوں اور سینوں میں لگے تو پھر لگی رہے۔یہ آگ ایسی ہو جو دعاؤں میں بھی ڈھلے اور اس کے شعلے ہر دم آسماں تک پہنچتے رہیں۔پس یہ آگ ہے جو ہر احمدی نے اپنے دل میں لگانی ہے اور اپنے درد کو دعاؤں میں ڈھالنا ہے۔لیکن اس کے لئے پھر وسیلہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی بنا ہے۔اپنی دعاؤں کی قبولیت کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے پیار کو کھینچنے کے لئے، دنیا کی لغویات سے بچنے کے لئے ، اس قسم کے جو فتنے اٹھتے ہیں ان سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دلوں میں سلگتا رکھنے کے لئے ، اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کے لئے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بے شمار درود بھیجنا چاہئے۔کثرت سے درود بھیجنا چاہئے“۔خطبات مسرور جلد ۴ صفحه ۸۶ و ۷ ۸ ) اپنے خطبہ جمعہ ۲۳ فروری ۲۰۰۶ ء میں حضور انور ایدہ اللہ نے مکدر شدہ عالمی فضا کے ماحول میں احباب جماعت کو آنحضور کی ذات سے عشق کے اظہار کے لئے بکثرت درود بھیجنے اور امت محمدیہ کی خاطر دعائیں کرنے کی تحریک فرمائی۔آپ فرماتے ہیں: پس جہاں ایسے وقت میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک طوفان بد تمیزی مچا ہوا ہے یقینا اللہ تعالیٰ کے فرشتے آپ پر درود بھیجتے ہوں گے بھیج رہے ہوں گے، بھیج رہے ہیں۔ہمارا بھی کام ہے جنہوں نے اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عاشق صادق اور امام الزمان کے سلسلے اور اس کی جماعت سے