آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 352
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 352 ملک کی اخلاقی درستی کے لئے ایک بہت بڑی تدبیر کے لئے دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔“ انوار العلوم جلد ۱ صفحه ۲۶۶ تا صفحه ۲ ۲۷) تعدد ازدواج اور شہوت پرستی کا الزام: حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس اعتراض کے رد میں فرماتے ہیں:۔شادیوں پر اعتراض کیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا رڈ بھی فرمایا۔اسے پتہ تھا کہ ایسے واقعات ہونے ہیں، ایسے سوال اٹھنے ہیں تو وہ ایسے حالات پیدا کر دیتا تھا کہ ان باتوں کا رڈ بھی سامنے آگیا۔اسماء بنت نعمان بن ابی یکون کے بارے میں آتا ہے کہ عرب کی خوبصورت عورتوں میں سے تھیں۔وہ جب مدینہ آتی ہیں تو عورتوں نے انہیں وہاں جا کر دیکھا تو سب نے تعریف کی کہ ایسی خوبصورت عورت ہم نے زندگی میں نہیں دیکھی۔اس کے باپ کی خواہش پر آپ نے اس سے پانچ صد در هم حق مہر پر نکاح کر لیا جب آپ اس کے پاس گئے تو اس نے کہا میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔آپ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ تم نے ایک بہت عظیم پناہ گاہ کی پناہ طلب کی ہے اور باہر آگئے اور اپنے ایک صحابی ابو اسید کو فر مایا کہ اس کو اس کے گھر والوں کے پاس چھوڑ آؤ۔اور پھر یہ بھی تاریخ میں ہے کہ اس شادی پر اس کے گھر والے بڑے خوش تھے کہ ہماری بیٹی آنحضرت کے عقد میں آئی لیکن واپس آنے پر وہ سخت ناراض ہوئے اور اسے بہت پر ابھلا کہا۔ماخوذاز الطبقات الکبری لابن سعد الجزء الثامن صفحہ 318-319 ذکر من تزوج رسول الله لها اسماء بنت الععمان وا را حیاء التراث العربي بيروت 1996) تو یہ وہ عظیم ہستی ہے جس پر گھناؤنے الزام عورت کے حوالے سے لگائے جاتے ہیں۔جس کا بیویاں کرنا بھی اس لئے تھا کہ خدا تعالیٰ کا حکم تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو لکھا ہے اگر بیویاں نہ ہو تیں ، اولاد نہ ہوتی اور جوا و لا د کی وجہ سے ابتلاء آئے اور جن کا جس طرح اظہار کیا اور پھر جس طرح بیویوں سے حسن سلوک ہے ، خُلق ہے، یہ کس طرح قائم ہو ، اس کے نمونے کس طرح قائم ہو کے ہمیں پتہ چلتے۔ہر عمل آپ کا خدا کی رضا کے لئے ہوتا تھا۔ماخوذ از چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه نمبر ۳۰۰)