آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 351 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 351

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 351 باب هشتم کر حضرت فاطمہ روپڑیں اور آپ کی بیویوں نے بھی کہا کہ آپ ایک جگہ ٹھہر جائے ہم بخوشی اس کی اجازت دیتی ہیں۔تب آپ ایک جگہ ٹھہر گئے۔جو انسان بیویوں میں انصاف کرنے کا اس قدر پا بند ہو کہ مرض الموت میں بھی دوسرے کے کندھوں کا سہارا لے کر ان کے ہاں باری باری جاتا ہوا سے کون عیاش کہہ سکتا ہے۔عورتوں میں زیادہ وقت صرف کرنا: پھر عیاش اپنا زیادہ وقت عورتوں کی صحبت میں گزارتا ہے۔مگر آپ کی یہ حالت تھی کہ صبح سے شام تک باہر رہتے اور رات کو جب گھر جاتے تو کھانا کھا کر لیٹ جاتے اور پھر رات کو اٹھ کر عبادت کرتے۔اس طرح بندھے ہوئے اوقات میں آپ کو عیاشی کے لئے کون سا وقت ملتا تھا۔رسول کریم کی شادیوں کی غرض: پس آپ کی کئی بیویوں کو دیکھ کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نعوذ باللہ آپ عیاش تھے۔دیکھنا یہ چاہئے کہ کس غرض کو مد نظر رکھ کر آپ نے شادیاں کیں۔خدا کے لئے یا اپنے نفس کے لئے۔اگر خدا کے لئے کہیں تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کا زیادہ بیویاں کرنا عیاشی کی دلیل ہے۔میں ثابت کر چکا ہوں کہ آپ کا ایک سے زیادہ بیویاں کرنا نفس کی خواہشات کے لئے نہ تھا کیونکہ انہیں تو آپ نے پورا نہیں کیا۔اس کی وجہ کوئی اور تھی اور وہ یہ تھی کہ آپ ایک ایسی قوم میں مبعوث ہوئے تھے جس کے مرد اور عورتیں سب شریعت سے بے خبر تھے اس قوم میں آپ نے شریعت کو رائج کرنا تھا۔پس آپ نے مختلف خاندانوں کی بیویوں سے شادیاں کیں تا کہ وہ دین کے اس حصہ کو جو عورتوں سے تعلق رکھتا ہے سیکھ کر اپنی ہم جنسوں کو تعلیم دیں۔اور یہ ایک محض للہی غرض تھی۔اور آپ کا زیادہ شادیاں کرنا اور ان میں انصاف قائم رکھنا ایک بہت بڑی قربانی تھا نہ کہ عیاشی۔اور اب جب کہ میں یہ ثابت کر چکا ہوں کہ جس رنگ میں آپ نے عورتوں سے معاملہ کیا ہے وہ عیاشی نہیں بلکہ قربانی ہے۔تو یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جب کہ آپ نے اپنی امت کے انہی لوگوں کو ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت دی ہے جو آپ کی طرح عورتوں سے معاملہ کر سکیں تو اس حکم سے کسی ظلم کی بنیاد نہیں پڑی۔بلکہ دنیوی ترقی کے لئے ایک بہت بڑی قربانی اور