آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 350
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 350 بايه اللي قل لأزواجك إن كنت ترد الحيوة الدُّنْيَا وَزِينَهَا فَتَعَالَين اميمكن وأسر كن سراها جميلا وان كنان الرونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَ الدار الآخِرَةَ فَإنَّ اللهَ أَعَدَّ لِلمَحْسِنَتِ مِنكُنَ أجْرًا عظيما (الاحزاب : ۳۰۲۹) خدا تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی ان بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کے مال اور زینت کے سامان کی خواہش رکھتی ہو تو آؤ تم کو مال دے دیتا ہوں۔مگر اس حالت میں تم میری بیویاں نہیں رہ سکتیں۔مال لے کر تم مجھ سے جدا ہو جاؤ۔لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی محبت رکھتی ہو اور آخرت کی بھلائی چاہتی ہو تو پھر ان اموال کا مطالبہ نہ کرو۔اور یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ان کے لئے جو پوری طرح خدا کے احکام کی پابندی کرنے والیاں ہوں گی بہت بڑے اجر مقرر کر چھوڑے ہیں۔اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ میری زوجیت یا میری موجودگی میں تم کو مال نہیں مل سکتا۔اگر میری زندگی میں مال لینا چاہتی ہو تو طلاق لے لو اور الگ ہو جاؤ کہ میری دینی ذمہ داریاں مالداروں کی زندگی کی برداشت نہیں کر سکتیں۔لیکن اگر تم اس وقت صبر سے کام لو اور میرے ساتھ مل کر خدمت دین کو تر بیج دو تو پھر بھی تم کو مال مل جائے گا مگر میری وفات کے بعد ملے گا۔میری موجودگی میں نہیں۔چنانچہ آپ کی بیویوں کو مال ملے اور بہت ملے مگر آپ کی وفات کے بعد۔اب دیکھو کہ اس طرح عورتوں کی خواہشات کو ٹھکرا دینے والا کیا عیاش کہلا سکتا ہے ؟ اور کیا کوئی عیاش اپنی بیویوں کی مال و زینت کی خواہش سن کر انہیں کہہ سکتا ہے کہ زینت کے سامان چاہئیں تو طلاق لے لو۔عورتوں میں بے انصافی: پھر عیاش انسان عورتوں میں بے انصافی کرتا ہے۔جسے خوبصورت سمجھے اس کی طرف زیادہ رغبت رکھتا ہے اور باقیوں کو چھوڑ دیتا ہے۔مگر رسول کریم ﷺ کا یہ حال تھا کہ جب آپ بیمار ہوئے تو اس حالت میں بھی دوسروں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اس بیوی کے ہاں چلے جاتے جس کی باری ہوتی۔وفات سے تین دن قبل تک ایسا ہی کرتے رہے حتی کہ آپ کی یہ حالت دیکھ