آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 349
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 349 یعنی اس طرح چنی ہوئی یہ بیوی (عائشہ رضی اللہ عنہا ) جسے آپ نے اس کے عنفوانِ شباب میں بیاہ کیا ہے ایسی تھی کہ جس پر نبی اپنی تمام دوسری بیبیوں سے جو بعد میں بیاہی گئیں فریفتہ تھا۔یہ ایک دشمن اور سخت دشمن کی شہادت ہے۔اگر نعوذ باللہ آپ عیاش ہوتے تو آپ عائشہ کے بعد ان سے زیادہ خوبصورت نہایت نوجوانی کی عمر کی بیویوں کو تلاش کرتے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا اور ایسی عورتوں سے شادی کی جو عائشہ کا مقابلہ اپنی عمر اور اپنی ظاہری خوبی کے لحاظ سے نہیں کر سکیں اور ایسی حالت میں شادی کی جب کہ آپ عائشہ کے والد کے اخلاص اور خود ان کے زہدا اور تقومی کی وجہ سے عائشہ سے کمال محبت رکھتے تھے۔کیا یہ عیاشی کہلا سکتی ہے؟ مزامیر پھر عیاشی کے لئے مزا میر ضروری ہوتے ہیں۔مگر رسول کریم ﷺ نے ان کے متعلق فرما دیا ہے کہ یہ شیطانی آلے ہیں۔یا درکھو کہ ایسے لوگ تو ہو سکتے ہیں جو عیاش نہ ہوں اور باجے سنیں مگر کوئی ایسا عیاش نہیں ہو سکتا جو مزامیر نہ سنتا ہو۔مگ محمد اللہ وہ انسان تھے جو مزامیر کو مٹانے والے تھے۔اگر آپ نعوذباللہ عیاش ہوتے تو پھر کس طرح ممکن تھا کہ ایسا کرتے۔عورتوں کی خواہشوں کی پابندی پھر عیاش انسان عورتوں کی خواہشوں کا پابند ہوتا ہے مگر رسول کریم ﷺ کا یہ حال تھا کہ جب خیبر کا علاقہ فتح ہوا اور وہاں کے ٹیکس کی ایک معقول رقم آنے لگی اور مسلمانوں کے گھروں میں دولت اور فراوانی آگئی تو آپ کی بیویوں نے بھی جن میں سے اکثر آسودہ حال گھرانوں کی لڑکیاں تھیں خواہش کی کہ ہم بہت تنگی میں گزارہ کرتی ہیں اس وقت تو ہم نے اس وجہ سے کچھ نہیں کہا کہ رو پید تھا ہی نہیں لیکن اب جب کہ روپیہ آ گیا ہے اور سب لوگوں کو حصہ ملا ہے ہماری آسودگی کا بھی انتظام ہونا چاہئے اور اس تنگ زندگی سے ہمیں بچانا چاہئے۔تو اس خواہش کے جواب میں وہ انسان جسے کہا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ عیاش تھا اور عورتوں کی صحبت میں اس نے عمر گزاری جو جواب دیتا ہے اس کا ذکر قرآن کریم میں ان الفاظ میں آیا ہے: