آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 348
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 348 باب هشتم باندھنا پڑا۔آپ کے پاس جو کچھ آتا اسلام کی ضرورتوں پر خرچ کر دیتے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں بیسیوں وقت ایسے آئے کہ ہمیں کھانے کو کچھ نہ ملا کئی وقت ایسے آئے کہ صرف کھجوریں کھا کر گزارہ کیا اور کئی وقت ایسے آئے کہ صرف پانی پی کر وقت گزارا۔جس شخص کے کھانے پینے کی میہ حالت ہوا سے کون عیاش کہہ سکتا ہے۔عمده سامان: پھر عیاشی کے لئے عمدہ سامان جمع کئے جاتے ہیں تا کہ عیاشی میں لذت پیدا ہو مگر رسول کریم ﷺ کے گھروں کا یہ حال تھا کہ بعض گھروں میں صرف بھیٹر بکری کی ایک کھال تھی۔جس پر میاں بیوی اکٹھے سورہے تھے۔چنانچہ حضرت عائشہ کہتی ہیں ہمارے گھر میں ایک ہی بستر تھا اور ہمیں اکٹھے سونا پڑتا۔جب رات کو رسول کریم ﷺ نماز کے لئے اٹھتے تو اسی بچھونے پر نماز پڑھتے اور مجھے اپنی ٹانگیں اکٹھی کر لینی پڑتیں۔باکرہ عورتیں: پھر عیاش باکرہ عورتوں کا دلدادہ ہوتا ہے۔مگر رسول کریم ﷺ نے با اختیار بادشاہ ہونے کی حالت میں کسی باکرہ سے شادی نہ کی۔ہاں مکہ میں ایک با کرہ حضرت عائشہ سے شادی کی مگر جب صاحب اختیار ہوئے تو ایک بھی نکاح کسی با کرہ سے نہ کیا۔اگر آپ عیش پسند ہوتے و کیا آپ با کر عورتوں سے شادی نہ کر سکتے۔کئی یا کرہ عورتوں نے اپنے آپ کو نکاح کے لئے پیش بھی کیا مگر آپ نے کسی سے نکاح نہ کیا بلکہ ان کا نکاح دوسروں سے کرا دیا۔حسین عورت کی تلاش: پھر عیاش انسان پہلی عورت سے زیادہ حسین تلاش کرتا ہے۔جو پہلی عورتوں سے زیادہ اس کی شہوات کو پورا کر سکے۔مگر سب اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت عائشہ کے درجہ کی آپ کی کوئی بھی بیوی نہ تھی۔اگر آپ نعوذباللہ عیاش ہوتے تو جو نکاح آپ نے بعد میں کئے وہ زیادہ حسین عورتوں سے کرتے۔مگر ارونگ جیسا دشمن بھی آپ کے متعلق لکھتا ہے : Upon this wife thus chosen in the very Blossom of years, the Prophet dotted more than any of those whom he subsequently married۔