آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 347
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 347 شراب کی ضرورت غموں کے غلط کرنے کے لئے ہوتی ہے اور آپ غموں سے آزاد تھے مگر دلیل پہلی دلیل سے بھی زیادہ بو دی اور پھر ہوگی کیونکہ آپ کی زندگی غموں کا ایک مرقع تھی۔جان کا ہیوں کی ایک نہ ٹوٹنے والی زنجیر تھی۔نبوت کا دعوی پیش کرنے کے بعد سے آپ دنیا کی نگاہوں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے لگے۔اپنے اور پرایوں کے حملوں کے ہدف بن گئے۔دنیا آپ کے دکھ دینے میں صرف لطف ہی محسوس نہیں کرتی تھی بلکہ وہ اسے ثواب دارین کا موجب خیال کرتی تھی۔مکہ کے لوگ ہی نہیں بلکہ عرب کے لوگ مشرک ہی نہیں بلکہ یہودو نصاری بھی آپ کو اپنے مذہب اور اپنی قومیت کے لئے ایک خطرناک وجود سمجھتے تھے۔پس ہر ایک کی تلوار آپ کے خلاف اٹھ رہی تھی۔ہر ایک کی زبان آپ کی جتک عزت کے لئے دراز ہو رہی تھی۔ہر ایک کی آنکھ غصہ سے سرخ ہو ہو کر آپ پر پڑتی تھی۔جب عرب آپ کے ہاتھ پر فتح ہو گیا تو تب بھی آپ کو امن نہ ملا۔روم کی حکومت نے آپ کے خلاف کارروائیاں شروع کردی۔ایران کے بادشاہ نے آپ کے قتل کے احکام دیئے۔گھر کے دشمن منافقوں نے اندر ہی اندر ریشہ دوانیاں شروع کر دیں۔غرض دنیوی لحاظ سے ایک شعلہ مارنے والی قباتھی جو آپ کے لئے تیار کی گئی تھی۔ایک گھڑی اور ایک ساعت راحت اور آرام کی آپ کے لئے میسر نہ تھی۔حتی کہ وفات کے وقت بھی آپ ایک بہت بڑے دشمن کے مقابلہ کے لئے ایک جزار لشکر کو بھیج رہے تھے۔ان مصائب اور ان آلام کے ہوتے ہوئے اور شخص ہوتا تو پاگل ہو جاتا مگر آپ بہادری سے ان مشکلات کا مقابلہ کر رہے تھے۔پس اگر عیاشی کے لئے نہیں تو غموں ہی کے کم کرنے کے لئے آپ شراب کی اجازت دے سکتے تھے۔مگر آپ نے شراب کو حرام اور قطعا حرام کر دیا۔پس کون کہہ سکتا ہے کہ آپ کو غم نہ تھے اس لئے آپ نے شراب کو حرام کیا۔عمدہ کھانے: پھر عیاش عمدہ کھانوں کا دلدادہ ہوتا ہے۔عیاش لذیذ سے لذیذ اور مقوی سے مقوی کھانے کھاتے ہیں تا کہ شہوت پیدا ہو۔مگر محمد ی ﷺ کے گھر کا یہ حال تھا کہ جس دن آپ فوت ہوئے اس دن شام کو آپ کے گھر فاقہ تھا۔بعض اوقات آپ کو بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر