آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 346
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 346 باب علم ایک کو چھوڑ کر دوسری کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے دوسری کو چھوڑ کر تیسری کی طرف۔کیونکہ سب کی طرف توجہ کرنا اس کے مزے کو خراب کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عیاش مرد عورتوں میں زیادہ وقت صرف کرتا ہے کیونکہ اس کے بغیر اس کی عیاشی کے میلان پورے ہی نہیں ہو سکتے۔یہ نو باتیں ایسی ہیں کہ ان کے بغیر یا کم سے کم ان میں سے بعض کے بغیر دنیا میں کوئی عیاش ہو نہیں سکتا۔اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا یہ باتیں رسول کریم ﷺ میں پائی جاتی ہیں ؟ شراب: پہلی چیز شراب ہے۔سو دیکھو کہ ایک محمد رسول اللہ ﷺ ہی کی ذات ہے۔جنہوں نے دنیا میں شراب کو قطعا حرام کیا ہے۔پہلی اقوام میں شراب کو محدود کرنے کی کوشش تو کی گئی ہے لیکن اسے بالکل نہیں روکا گیا سوائے اسلام کے۔اب سوچو کہ اگر آپ میں عیاشی کا کوئی شائبہ بھی ہوتا تو آپ کی قوم اگر پہلے پانچ دفعہ شراب پیتی تھی تو آپ انہیں حکم دیتے کہ آٹھ دفعہ پیو اور اگر آٹھ دفعہ پیتی ہوتی تو آپ انہیں کہتے کہ بارہ دفعہ پیا کرو لیکن آپ نے شراب کو بالکل اور قطعا حرام پیا قراردے دیا۔کوئی نہیں کہہ سکتا۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ آپ نے شراب کو اس لئے حرام کیا کہ آپ کے تقدس پر لوگ حرف گیری نہ کریں۔کیونکہ آپ کے ملک کے لوگ ہی نہیں بلکہ دنیا کے لوگ بھی اس زمانہ میں شراب کو تقدس کے خلاف نہیں سمجھتے تھے۔عرب کے کا ہن اور ایران کے موبد اور روم کے پادری اور ہندوستان کے پنڈت شراب میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے اور شراب تقدس کے خلاف نہیں بلکہ شراب عبادات کا ایک جز وا در ریاضات کا ایک ذریعہ کبھی جاتی تھی۔پس ایسے وقت میں پبلک اور حنین (Opinion) کا خیال کر کے شراب کو حرام کرنے کا خیال بھی کسی شخص کے دل میں نہیں آسکتا تھا۔پس اگر عیاشی کا ایک خفیف سا میلان بھی آپ میں پایا جاتا جیسا کہ آپ کے دشمن خیال کرتے ہیں تو آپ شراب کو ہرگز منع نہ فرماتے۔بلکہ اپنے ملک کے رواج کو جو ملک کے بڑے اور چھوٹے کی فطرت ثانیہ بن چکا تھا جاری رہنے دیتے۔ہاں کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ آپ کو عیاشی کے لئے شراب کی ضرورت ہی نہ تھی کیونکہ ہی