آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 344
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 844 باب هشتم دقیقہ اس افتراء کی تردید کرتا ہے، اس بہتان کو رد کرتا ہے اور اس خیال کو دھکے دیتا ہے۔بد بخت ہے وہ انسان جو محمد رسول اللہ ﷺ کا متبع کہلا کر ایسا خیال دل میں لاتا ہے اور اندھا ہے وہ آدمی جو محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی کو دیکھتے ہوئے پھر اس پر یقین کرتا ہے۔رسول کریم ﷺ کی شادی الله پچیس برس کی عمر میں حضرت خدیجہ سے ہوئی تھی اور اس وقت حضرت خدیجہ کی عمر ۴۰ سال کی تھی۔حضرت خدیجہ چونسٹھ سال کی عمر میں فوت ہوئیں اور اس وقت آنحضرت کی عمر انچاس سال کی تھی۔مگر دوست اور دشمن شاہد ہیں کہ آپ نے حضرت خدیجہ سے ایسا برتاؤ کیا جس کی نظیر دنیا میں بہت کم ملتی ہے۔حضرت سودہ سے آپ کی شادی حضرت خدیجہ کے بعد ہوئی اور ان کی وقات ۵۴ ہجری میں ہوئی ہے۔چونکہ ان کی عمر کا صحیح اندازہ مجھے معلوم نہیں میں سن وفات سے اندازہ لگاتا ہوں کہ اگر وہ سو سال کی عمر میں فوت ہوئی ہوں تو چوالیس سال جو وہ رسول کریم " کے بعد زندہ رہیں نکال کر ان کی عمر آنحضرت ﷺ کی وفات کے وقت چھپن (۵۶) سال بنتی ہے۔اب کیا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے کہ وہ شخص جس نے پچاس سالہ عمر میں چونسٹھ سالہ بیوی سے نہایت وفادارانہ گزارہ کیا تھا وہ اپنی تریسٹھ سالہ عمر میں چھپن سالہ بیوی کو اس لئے طلاق دینے پر آمادہ ہو جاوے گا کہ وہ بوڑھی ہوگئی ہے۔ان هذا إِلَّا الكَ مُّبِينٌ - پس اگر اس روایت میں کوئی حقیقت ہے تو حضرت سودہ کے خیال سے زیادہ وقعت اسے حاصل نہیں اور عورتوں میں اس قسم کے خیال پیدا ہو جانا قابل تعجب نہیں۔رسول کریم ملے کا یہ ہرگز خیال نہیں تھا۔پس وہ مسلمان جو ایک سے زیادہ بیویاں کرتے ہیں ان کو اسلام کی تعلیم کے مطابق عمل کر کے دکھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور شہوت رانی اور نفس پرستی کے پیچھے نہیں پڑنا چاہئے۔نا مخالفین اسلام کو حرف گیری کا موقع نہ ملے۔( انوارالعلوم جلدم سفری ۲۵۱ ۵۱۵) ولیم میور نے آنحضور کی کثرت ازدواج پر اعتراض کیا ہے اس اعتراض کا تفصیلی جواب حضرت مصلح موعود نے ارشاد فرمایا ہے۔آپ بیان فرماتے ہیں: زیا دہ بیویاں کرنا اپنی ذات میں تو قابل اعتراض فعل نہیں ہے۔قابل اعتراض بات تو عیاشی ہے یعنی بعض عورتوں کی طرف نا جائز اور حد سے بڑھی ہوئی رغبت۔“