آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 343
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 343 آسکتے تھے تو اپنی سب بیویوں کو جمع کر کے کہا کہ اگر تمہاری اجازت ہو تو میں کسی ایک گھر میں رہوں۔یہ تھی آپ کی احتیاط۔اس کو نا دان اور اندھی دنیا شہوت رانی کہتی ہے۔چنانچہ سب نے اجازت دی۔( بخاری کتاب المغازي باب مرض النبى و وقاته و قول الله تعالى انك ميت و انهم ميتون) اور خدا نے چاہا کہ وہ آپس میں اس کو چنیں جس کو خدا نے سب پر فضیلت دی تھی اور وہ عائشہ تھیں۔حضرت عائشہ کے گھر جانے کے تین چار روز بعد آپ فوت ہو گئے۔بیویوں کے متعلق یہ طرز عمل تھا اس انسان کا جس پر اعتراض کئے جاتے ہیں اور مسلمانوں کی طرف سے کرائے جاتے ہیں۔کیونکہ مسلمانوں میں سے آدھا حصہ عورتیں ہیں جو کہتی ہیں کہ ایک سے زیادہ بیویوں میں عدل نہیں کیا جاسکتا۔اور صرف عورتیں ہی نہیں کہتیں مرد بھی کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ جو لوگ مسلمانوں میں سے ایک سے زیادہ عورتیں کرتے ہیں وہ ان میں عدل نہیں کرتے۔پس سوچے اور غور کرے وہ مسلمان اور سوچے اور غور کرے وہ احمدی جو عیسائیوں کو کہتا ہے کہ تمہارے مذہب میں ایسی تعلیم پائی جاتی ہے جس پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔لیکن وہ خود اپنے عمل سے بتاتا ہے کہ اسلام میں بھی ایسی تعلیم ہے جس پر عمل نہیں ہو سکتا۔رسول کریم پر ایک بیوی کے متعلق اعتراض اور اس کا جواب: بعض نادان بعض حدیثوں کی بناء پر کہہ دیا کرتے ہیں کہ رسول کریم نے بھی ایک بیوی کے گھر اس لئے جانا چھوڑ دیا تھا کہ وہ بوڑھی ہوگئی تھیں۔حالانکہ حدیثوں سے یہی ثابت ہے کہ اس عورت نے خو درسول کریم ﷺ کو کہا تھا کہ میں اپنی باری عائشہ کو دیتی ہوں۔بخاری کتاب النکاح باب المرءة تهب يومها من زوجها لضرتها و كيف يقسم ذالك) بے شک روایت کیا جاتا ہے کہ اس بیوی کے دل میں ڈر پیدا ہو گیا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ رسول کریم نے مجھے بوجہ بڑھاپے کے طلاق دے دیں۔اور ممکن ہے یہ بات درست ہو۔عورتیں بعض دفعہ اپنی کمزوری کے باعث اس قسم کے وہموں میں مبتلا ہو جاتی ہیں مگر رسول کریم کے دل میں یہ خیال بھی پیدا نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہوا۔آپ کی عمر کا ایک ایک لحظہ اور ایک ایک۔