آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 342 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 342

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 342 باب ہشتم الله شریعت اسلام پر ظلم کا الزام لگاتی ہیں۔مگر میں پوچھتا ہوں اس کا ذمہ دار کون ہے؟ وہی جن کی وجہ سے عورتوں کو اس اعتراض کا موقع ملا۔اور وہی جنہوں نے اپنی نفس پرستی کی وجہ سے دشمنوں کو محمد ﷺ پر اعتراض کا موقع دیا اور اسلام پر ہنسی اڑوائی۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص دو بیویاں کر کے ان سے مساوی سلوک نہیں کرنا قیامت کے دن وہ ایسے حال میں اٹھے گا کہ اس کا آدھا دھڑ ہوگا اور آدھا نہیں ( ترمذی ابواب النکاح باب ما جاء في التسوية بين الضرائر ) اور کون کہہ سکتا ہے کہ وہ آدھا دھڑ کون سا ہوگا ؟ وہ جس میں دل ہے یا وہ جس میں دل نہیں۔پس یہ وہ حکم ہے جس پر مخالفین کی طرف سے بڑے شور سے اعتراض کئے جاتے ہیں۔اور جس کے متعلق مسلمان اپنے عمل سے مخالفین کو اعتراض کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔نفس پاک رکھنے والے اپنے عمل سے مخالفین کا اعتراض دور کریں: میرا دل چاہتا ہے کہ ہماری جماعت کے جو لوگ نفس پاک رکھتے ہیں اور اسلام کو اپنی شہوت رانی پر قربان کرنے والے نہیں وہ اس حکم پر عمل کر کے اسلام پر سے اس اعتراض کو دور کریں اور عملاً اس کا جھوٹا ہونا ثابت کر دیں۔ابتداء بے شک ان کے اس فعل پر بھی اعتراض ہوں گے لیکن آہستہ آہستہ جب لوگ اپنی آنکھوں سے اس بات کو دیکھیں گے کہ یہ فعل شہوت رانی نہیں ہے بلکہ اس امر پر کوئی شخص قادر بھی نہیں ہوسکتا جب تک کہ شہوت کو دبانے پر قادر نہ ہو تو خود بخود ان کی آنکھیں کھل جاویں گی اور اپنی غلطی کا اقرار کرنے لگیں گے۔بیویوں سے مساوی سلوک کرنے میں احتیاط: میں آپ لوگوں کو اپنا حال سناتا ہوں کہ میں اس قد راحتیاط سے کام لیتا ہوں۔پچھلے دنوں جب میں بیمار ہوا اور میں نے دیکھا ادھر ادھر آجا نہیں سکتا تو میں نے کہا کہ میری چارپائی والدہ کے گھر پہنچا دی جائے تاکہ میں ایک مشترک گھر میں رہوں اور کسی بیوی کو شکایت نہ ہو کہ دوسری کے ہاں رہتا ہوں۔الله رسول کریم ﷺ نے بیویوں کے حقوق کے متعلق خاص تاکید فرمائی ہے۔اور اس معاملہ میں اس قدر تشدد کیا ہے کہ جب آپ مرض الموت میں تھے اور نماز کے لئے بھی باہر نہیں