آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 338
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 338 ایک تو خدا کے قول و فعل کے مطابق رسم تبعیت کا ( کہ وہ حقیقی بیٹے کی مانند ہیں ) اور دوسرا ایک مطلقہ عورت سے (جس سے شادی کرنا عرب جاہلیت میں سخت قابل ملامت و نفرت اور ذلت تصور کرتے تھے ) نکاح کرنا۔مگر چونکہ عقلاً اور سما وشرعاً یہ افعال معیوب نہ تھے۔اور ضرور تھا کہ مصلح و بادی خود نظیر بنے تا کہ تابعین کو تحریک و ترغیب ہو۔آپ پہلے بے شک بمتھائے بشریت گھبرائے اور بالآخر ان مشکلات پر غالب آکر ایک عجیب نظیر قائم کر دکھلائی۔پادری صاحب کی عقل پر افسوس آتا ہے جو کہتے ہیں محمد نے لوگوں سے ڈر کر آیت اتاری کون سی آیت اتار لی اور ڈر ہی کیا تھا۔آنحضرت کو اس بات کا ڈر تھا اور لوگوں کی طرف سے خوف تھا کہ دشمن اس بات کا طعنہ دیں گے کہ ان کا اپنے ہاتھ سے کیا ہوا کام انجام کو نہ پہنچا۔کیونکہ آنحضرت ﷺ خو داس مزاوجت کے متکفل اور منصرم ہوئے تھے۔اور بڑے اصرار سے زینب کے وارثوں سے اس کو زید کے لئے مانگا تھا اور اب اس مفارقت پر دشمن طعنہ دے سکتے تھے۔بے شک اس بات کا آپ کو خوف تھا اور ان کی نا چا کی کو وہ اختفا کرنا چاہتے تھے جو بالآخر پھوٹ نکلی۔اسی خوف و اخفا کی نسبت قرآن کریم فرماتا ہے کہ تو لوگوں سے ڈرتا تھا حالانکہ ڈرنا تو مجھ سے چاہئے۔یہ ایک عجیب محاورہ قرآنی ہے مطلب ایسے جملہ کا یہ ہوتا ہے کہ جو امر حسب مقتضائے قانونِ الہی ہو اس کے اجر او تقبیل میں انسان سے ڈرنا یعنی اس کا عمل میں نہ لانا محبت ہے۔ناقص العقل یا دری اتنا بھی خیال نہیں کر سکتے کہ اگر اس عقد میں کوئی امر معیوب اور قادح نبوت ہوتا تو یقیناً اول منکر زید ہوتا۔حالانکہ بعد ازاں بہت دنوں تک اسلام اور نیچے ہادی کی خاطر بڑے بڑے معرکوں اور ملکوں میں جاں ناری کرتا رہا۔اور بڑے بڑے فیور جری صحابہ (جو یقینا مچھوؤں اور باج گیروں سے بڑھ کر وقعت و غیرت میں تھے ) جو اسلام کے رکن رکین تھے۔بہت جلد ہاں اسی دم آپ کے پاس سے ٹوٹ پھوٹ جاتے اور یہ تانا بانا پر ہم ہو جاتا میں سچے دل سے کہتا ہوں کہ اس قصے کا ہونا قرآن کے کلام اللہ ہونے کا بڑا بھاری ثبوت ہے اور یہ نبی عرب کی ترکیب و آورد ( جیسے منکرین سمجھتے ہیں ) کلام نہیں۔کیا امانت کا حق ادا کیا ہے۔کیا