آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 337
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 337 باب هشتم ہوا۔اس میں شک نہیں کہ رخنہ جو کفار اور حیلہ طلب معاندین کو رسما و عرفاً ایسے موقع پر بہت ملامت وطنر کا قابول سکتا تھا اور آپ کوا را نہیں کر سکتے تھے کہ اس مفارقت اور معاشرتی نا چا کی کا حال مخالفین منکرین پر کھلنے پائے جو اُن کی زبان درازی اور تعریض کا باعث ہو۔اور نیز زینب کے وارثوں کا خیال ایک رسمی اور قومی خیال تھا۔جو آنحضرت ﷺ کے دل کو اور بھی مضطرب کرنے کا موجب ہو سکتا تھا۔بنابر آں آپ نے زید کو بہت روکا اور تلخی معاشرت پر صبر کرنے کی بہت نصیحت و ہدایت کی اور سخت الحاح و اصرار کیا کہ وہ اس ارادے سے باز آجاوے مگر خدا کو ایک عظیم الشان کام پورا کرنا اور ایک خلاف قدرت مصر معاشرت رسم کا تو ڑنا منظور تھا۔اس موقع پر قرآن کے الفاظ جن میں آنحضرت کی دلی حالت کی تصویر کھینچی گئی ہے۔الہامی حقیقت پہنچاننے والے منصف کے نزدیک قابل غور ہیں۔خصوصاً آمیسک الخ " اپنی بی بی کو نگاہ رکھ اور اللہ سے ڈر“ بہت غور کے قابل ہے خدا سے ڈر ایسے الفاظ ہیں کہ بازداشت اور زجر کے لئے اس سے زیادہ اور نہیں کہا جا سکتا۔عیسائیوں کی شوخی اور جرات سخت قابل افسوس ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اوپر سے دل " سے زید کو منع کیا " (لائف آف محمد از سرولیم میور صفحه ۲۳۸) معلوم نہیں صادق کے دل کے اظہار مافی الضمیر کا اور کیا طریق ہو سکتا ہے۔کسی سوسائٹی کے رسوم و آئین کی اصلاح میں اگر کسی مصلح کو تکالیف و زحمات اٹھانی پڑتی ہیں تو آنحضرت ﷺ کو چند در چند صعوبات اٹھانی پڑتیں اور پڑنے والی تھیں جن کے ر اور در پیش عرب جیسی غیر مہذب اگھڑ سوسائٹی کے خلاف قدرت اور مضر معاشرت رسوم کا اصلاح کرنا تھا۔عرب میں ( ہندؤوں کی طرح ) مبنی (منہ بولا بیٹا ) صلبی بیٹے کی مانند سمجھا جاتا تھا۔اس رسم قبیح سے جو نتائج فاسدہ دنیا میں ہوئے اور ہوتے ہیں عیاں ہیں اور حقیقتا قدرت کہاں اجازت دیتی ہے کہ پیر حقیقی اور حقی دونوں مساوات کا درجہ رکھیں قرآن نے اس معفر اصل کی بیخ کنی کر دی کہ ”منہ بولے تمہارے بیٹے نہیں ہیں۔تمہارے بیٹے وہی ہیں جو تمہارے نطفے سے ہیں اب یہاں قوم و ملک کے رسوم کے مخالف دو عظیم مشکلوں کا سامنا آپ کو کرنا پڑا۔