آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 336
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 336 باب هشتم (نامہ رومیاں ۸ باب ۵) تو اب کیا وہ با ہمی عقد میں بہنوں سے نکاح کرتے ہیں تو ریت میں بھی بہن سے نکاح حرام ہے۔اگر کہو۔وہاں حقیقی بہن مراد ہے تو کیا دینی بہن سے نکاح جائز ہے۔پولوس صاحب فرماتے ہیں " کیا ہمیں اختیار ہے کہ دینی بہن سے نکاح کر لیں"۔(قرتنی ۹ باب ۵) ہم کہتے ہیں اسی طرح حقیقی بیٹے کی جو رو سے نکاح منع ہے نہ لے پالک کی جورو سے۔مجھے اس وقت مولوی لطف اللہ لکھنوی یا د آ گئے۔ان سے بھی ایک پادری صاحب نے مجمع عام میں یہی سوال کیا تھا۔آپ نے کیا خوب جواب دیا۔سارے راستباز خدا کے فرزند ہیں۔تو یوسف نجار بھی فرزند تھا پھر اس کی جو رو سے خدائے فرزند لیا۔پس اگر اس کے رسول نے لے پالک کی بی بی مطلقہ سے نکاح کیا تو کیا عیب ہے۔اگر جماع عیب ہے تو ایک عضو کی نسبت سارے سموچے خدا کی رحم میں از راہ چلا جانا اور پھر مجسم بن کر نکل کر کھڑا ہونا تو شاید اور بھی معیوب ہوگا۔زید نے تو طلاق بھی دے ڈالی تھی۔یوسف سے تو کسی نے براءت نامہ بھی نہ لیا ہاں شاید الوہیت اور رسالت میں یہی فرق ہوگا۔کہ اس میں طلاق کی ضرورت نہیں رہتی۔" کتب مقدسہ کے محاورات تمہیں تعجب انگیز معلوم نہیں ہوتے۔اے میری زوجہ اے میری بہن۔تیرا عشق کیا خوب ہے۔تیری محبت کے سے کتنی زیادہ لذیذ ہے۔(غزل الغزلات آ باب ۱۰، ۵ باب ۱) حقیقی جواب: اصل قصہ یوں ہے کہ زینب ایک بڑے خاندان کی عورت تھی۔آنحضرت نے اپنے خادم زید کے لئے اس کے وارثوں کو ناطہ کا پیغام دیا۔وہ اپنی عظمت و شرافت شان کے خیال سے اول تو ناراض ہوئے پھر آخر کار راضی ہو گئے۔کچھ مدت تو جوں توں کر کے بسر ہوئی۔آخر زید نے اس کی تعلی اور طتر و تعریض سے تنگ آکر اس کے چھوڑ دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔چونکہ آپ بذات مبارک اس شادی کے انصرام کے متکفل ہوئے تھے۔اس لئے اس طلاق کے انجام اور اس کے مفاسد پرقومی دستوروں اور حالات معاشرت ملکی کے لحاظ سے آپ کے دل میں کھٹکا پیدا