آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 335
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 335 اپنی بیوی کو ماں کہہ دے تو کیا وہ اس پر حرام ہو جائے گی اور طلاق واقع ہو جائے گی۔بلکہ وہ بدستور اُسی ماں سے مجامعت کرتا رہے گا پس جس شخص نے یہ کہا کہ طلاق بغیر زنا کے نہیں ہوسکتی اس نے خود قبول کر لیا کہ صرف اپنے منہ سے کسی کو ماں یا باپ یا بیٹا کہہ دینا کچھ چیز نہیں ورنہ وہ ضرور کہ دیتا کہ ماں کہنے سے طلاق پڑ جاتی ہے مگر شاید کہ مسیح کو وہ عقل نہ تھی جو فتح مسیح کو ہے۔اب تم پر فرض ہے کہ اس بات کا ثبوت انجیل میں سے دو کہ اپنی عورت کو ماں کہنے سے طلاق پڑ جاتی ہے یا یہ کہ اپنے مسیح کی تعلیم کو نا قص مان لو یا یہ ثبوت دو کہ بائبل کی رو سے متبنی فی الحقیقت بیٹا ہو جاتا اور بیٹے کی طرح وارث ہو جاتا ہے اور اگر کچھ ثبوت نہ دے سکو تو بجز اس کے اور کیا کہیں کہ لعنة الله عَلَى الْكَاذِبِین مسیح بھی تم پر لعنت کرتا ہے۔کیونکہ مسیح نے انجیل میں کسی جگہ نہیں کہا کہ اپنی عورت کو ماں کہنے سے اس پر طلاق پڑ جاتی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ یہ تینوں امر ہم شکل ہیں۔اگر صرف منہ کے کہنے سے ماں نہیں بن سکتی تو پھر بیٹا بھی نہیں بن سکتا اور نہ باپ بن سکتا ہے اب اگر کچھ دیا ہو تو مسیح کی گواہی قبول کر لو یا اس کا کچھ جواب دو اور یا درکھو کہ ہرگز نہیں دے سکو گے اگر چہ فکر کرتے کرتے مر ہی جاؤ کیونکہ تم کا ذب ہو اور صحیح تم سے بیزار ہے"۔(نو رالقرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد نمبر ۹ صفحه ۳۸۸ (۳۸۹) ☆ ایک عیسائی کا اعتراض "محمد صاحب نے اپنے لے پالک کی جو رُو سے عشق کیا پھر لوگوں سے ڈرے تو ایک آیت اتارلی“ کے جواب میں حضرت خلیفہ اسیح الاول نے تحریر فرمایا: معترض نے عشق کا ثبوت تو کوئی نہ دیا۔لوگوں سے ڈرنا مقتضائے بشریت ہے۔حضرت مسیح بقول آپ کے باوجود الوہیت کے لوگوں (یہود ) سے ڈرتے رہے۔اور حاکم کے سامنے حضرت سے کچھ نہ بن پڑا ھم وبکم سے رہ گئے۔بھلا صاحبان جس صبح کو پکڑے گئے اس رات مسیح کی کیا حالت تھی۔( متی ۴۶ باب ۳۸ آیت ) اگر لے پالک کی بیوی سے شادی منع ہے تو اس کا ثبوت تو ریت یا انجیل یا شرع محمد متی ( قرآن ) سے یا دلائل عقیلہ سے دیا ہوتا۔بلکہ میں کہتا ہوں سارے عیسائی لے پالک بیٹے ہیں۔