آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 334 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 334

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 334 نہ آوے تو ہمیں قرآن اور بخاری اور مسلم سے اپنے دعوے کا ثبوت دکھلاوے کیونکہ ہمارے دین کا تمام مدار قرآن شریف پر ہے اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث قرآن کی مفسر ہے اور جوقول ان دونوں کے مخالف ہو وہ مردود اور شیطانی قول ہے یوں تو تہمت لگانا سہل ہے۔مثلاً اگر کسی آریہ کو کوئی کہے کہ تیری والدہ کا تیرے والد سے اصل نکاح نہیں ہوا۔جبر اس کو پکڑ لائے تھے اور اس پر کوئی اطمینان بخش ثبوت نہ دے اور مخالفانہ ثبوت کو قبول نہ کرے۔تو ایسے بدذات کا کیا علاج ہے ایسا ہی وہ شخص بھی اس سے کچھ کم بدذات نہیں جو مقدس اور راستبازوں پر بے ثبوت تہمت لگاتا ہے۔ایماندار آدمی کا یہ شیوہ ہونا چاہئے کہ پہلے ان کتابوں کا صحیح صحیح حوالہ دے جو مقبول ہوں اور پھر اعتراض کرے ورنہ نا حق کسی مقدس کی بے عزتی کر کے اپنی نا پا کی فطرت کی ظاہر نہ کرے۔جب ہم سوچتے ہیں کہ کیوں خدا تعالیٰ کے مقدس اور پیارے بندوں پر ایسے ایسے حرام زادے جو سفلہ طبع دشمن ہیں جھوٹے الزام لگاتے ہیں تو بجز اس کے اور کوئی سبب معلوم نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ ارادہ فرماتا ہے کہ تا نور کے مقابل پر ظلمت کا خبیث مادہ بھی ظاہر ہو جاوے کیونکہ دنیا میں اضداد اضداد سے پہچانی جاتی ہیں۔اگر رات کا اند میرا نہ ہوتا تو دن کی روشنی کی خوبی ظاہر نہ ہو سکتی۔پس خدا تعالی اس طور سے پلید روحوں کو مقابل پر لا کر پاک روح کی پاکیزگی زیادہ صفائی سے کھول دیتا ہے۔( آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلده اصفحه ۴ ۵ تا۶۳ ) پادری فتح مسیح نے آنحضرت پر اپنے بیٹی کی مطلقہ زینب سے شادی پر اعتراض کرتے ہوئے اسے زنا کے الزام میں ناحق پیش کیا ہے اس کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: کہیں کہ " زینب کے نکاح کا قصہ جو آپ نے زنا کے الزام سے ناحق پیش کر دیا بجز اس کے کیا ج بد گهر از خطا خطانه کند اے نالائق حسینی کی مطلقہ سے نکاح کرنا زنا نہیں۔صرف منہ کی بات سے نہ کوئی بیٹا بن سکتا ہے اور نہ کوئی باپ بن سکتا ہے اور نہ ماں بن سکتی ہے مثلا اگر کوئی عیسائی عحصہ میں آکر