آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 333
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 333 باب هشتم آیتیں پہلے سے وارد ہو چکی تھیں کہ منہ بولا بیٹا دراصل بیٹا نہیں ہو سکتا تھا۔اس لئے آنحضرت کی فراست اس بات کو جانتی تھی کہ اگر زید نے طلاق دے دی تو غالباً خدا تعالیٰ مجھے اس رشتہ کے لئے حکم کرے گا تا لوگوں کے لئے نمونہ قائم کرے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور یہ قصہ قرآن شریف میں بعینہ درج ہے۔پھر پلید طبع لوگوں نے جن کی بد ذاتی ہمیشہ افترا کرنے کی خواہش رکھتی ہے خلاف واقعہ یہ باتیں بنائیں کہ آنحضرت خود زینب کے خواہشمند ہوئے حالانکہ زینب کچھ دور سے نہیں تھی کوئی ایسی عورت نہیں تھی جس کو آنحضرت نے کبھی نہ دیکھا ہو یہ زینب وہی تو تھی جو آنحضرت کے گھر میں آپ کی آنکھوں کے آگے جوان ہوئی اور آپ نے خود نہ کسی اور نے اس کا نکاح اپنے غلام آزاد کردہ سے کر دیا اور یہ نکاح اس کو اور اس کے بھائی کو اوائل میں نا منظور تھا اور آپ نے بہت کوشش کی یہاں تک کہ وہ راضی ہو گئی۔ناراضگی کی یہی وجہ تھی کہ زید غلام آزاد کردہ تھا۔پھر یہ کس قدر بے ایمانی اور بد ذاتی ہے جو واقعات صحیحہ کو چھوڑ کر افترا کئے جائیں قرآن موجود بخاری مسلم موجود ہے نکالو کہاں سے یہ بات نکلتی ہے کہ آنحضرت زینب کے نکاح کو خود اپنے لئے چاہتے تھے۔کیا آپ نے زید کو کہا تھا کہ تو طلاق دیدے تا میرے نکاح میں آوے بلکہ آپ تو بار بار طلاق دینے سے ہمدردی کے طور پر منع کرتے تھے۔یہ تو وہ باتیں ہیں جو ہم نے قرآن اور حد یث میں سے لکھی ہیں۔لیکن اگر کوئی اس کے بر خلاف مدعی ہے تو ہماری کتب موصوفہ سے اپنے دعوے کو ثابت کرے۔ورنہ بے ایمان اور خیانت پیشہ ہے۔اور یہ بات جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے نکاح پڑھ دیا۔اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ نکاح میری مرضی کے موافق ہے اور میں نے ہی چاہا ہے کہ ایسا ہوتا مومنوں پر حرج باقی نہ رہے۔یہ معنی تو نہیں کہ اب زینب کے خلاف مرضی اس پر قبضہ کر لو ظاہر ہے کہ نکاح پڑھنے والے کا یہ منصب تو نہیں ہوتا کہ کسی عورت کو اس کے خلاف مرضی کے مرد کے حوالہ کر د یوے بلکہ وہ تو نکاح پڑھنے میں ان کی مرضی کا تابع ہوتا ہے سو خدا تعالیٰ کا نکاح یہی ہے کہ زینب کے دل کو اس طرف جھکا دیا اور آپ کو فر ما دیا کہ ایسا کرنا ہوگا تا امت پر خرج ندر ہے۔اب بھی اگر کوئی باز