آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 332
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 332 مرضی پڑھا گیا تھا۔ظاہر ہے کہ جس حالت میں زینب زید سے جو آنحضرت کا غلام آزاد تھا راضی نہ تھی اور اسی بناء پر زید نے تنگ آکر طلاق دی تھی اور زینب نے خود آنحضرت کے گھر میں ہی پرورش پائی تھی اور آنحضرت کے اقارب میں سے اور ممنون منت تھی تو زینب کے لئے اس سے بہتر اور کونسی مراد اور کونسی فخر کی جگہ تھی کہ غلام کی قید سے نکل کر اس شاہ عالم کے نکاح میں آوے جو خدا کا پیغمبر اور خاتم الانبیاء اور ظاہری بادشاہت اور ملک داری میں بھی دنیا کے تمام بادشاہوں کا سرتاج تھا جس کے رعب سے قیصر اور کسری کانپتے تھے۔دیکھو تمہارے ہندوستان کے راجوں نے محض فخر حاصل کرنے کے لئے مغلیہ خاندان کے بادشاہوں کو با وجود ہندو ہونے کے لڑکیاں دیں اور آپ درخواستیں دے کرا اور تمنا کر کے اس سعادت کو حاصل کیا اور اپنے مذہبی قوانین کی بھی کچھ رعایت نہ رکھی بلکہ اپنے گھروں میں ان لڑکیوں کو قرآن شریف پڑھایا اور اسلام کا طریق سکھایا اور مسلمان بنا کر بھیجا حالانکہ یہ تمام بادشاہ اس عالیشان جناب کے آگے پیچ تھے جس کے آگے دنیا کے بادشاہ جھکے ہوئے تھے کیا کوئی عقل قبول کر سکتی ہے کہ ایک ایسی عورت جواس ذلت سے تنگ آگئی تھی جو اس کا خاوند ایک غلام آزاد کردہ ہے وہ اس غلام سے آزاد ہونے کے بعد اس شہنشاہ کو قبول نہ کرے جس کے پاؤں پر دنیا کے بادشاہ گرتے تھے بلکہ دیکھ کر رعب کو برداشت نہیں کر سکتے تھے چنانچہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ایک ملک کا بادشاہ گرفتار ہوکر آنحضرت ﷺ کے روبرو پیش کیا گیا اور وہ ڈر کر بید کی طرح کا نپتا تھا۔آپ نے فرمایا کہ اس قدر خوف مت کر۔میں کیا ہوں ایک بڑھیا کا بیٹا ہوں جو باسی گوشت کھایا کرتی تھی سو ایسا خاوند جو دنیا کا بھی بادشاہ اور آخرت کا بھی بادشاہ ہو وہ اگر فخر کی جگہ نہیں تو اور کون ہو سکتا ہے۔اور زینب وہ تھی جس کی آنحضرت ﷺ نے زید کے ساتھ آپ شادی کی تھی اور آپ کی دست پر وردہ تھی اور ایک یتیم لڑکی آپ کے عزیزوں میں سے تھی جس کو آپ نے پالا تھا وہ دیکھتی تھی کہ آنحضرت ﷺ کی بیویاں عزت کے تخت پر بیٹھی ہیں اور میں ایک غلام کی جورو ہوں اسی وجہ سے دن رات تکرار رہتا تھا۔اور قرآن شریف بیان فرماتا ہے کہ آنحضرت اس رشتہ سے طبعاً نفرت رکھتے تھے اور روز کی لڑائی دیکھ کر جانتے تھے کہ اس کا انجام ایک دن طلاق ہے چونکہ یہ الله