آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 331
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 331 صلى الله کے ساتھ پیوند نکاح کر دیا۔اور خدا تعالیٰ کے نکاح پڑھنے کے یہ معنی نہیں کہ زینب اور آنحضرت ﷺ کا ایجاب قبول نہ ہوا اور جبر اخلاف مرضی زینب کے اس کو گھر میں آبا د کر لیا یہ تو ان لوگوں کی بدذاتی اور نا حق کا افترا ہے جو خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے بھلا اگر وہ بچے ہیں تو اس افترا کا حدیث صحیح یا قرآن سے ثبوت تو دیں۔اتنا بھی نہیں جانتے کہ اسلام میں نکاح پڑھنے والے کو یہ منصب نہیں ہوتا کہ جبراً نکاح کر دے بلکہ نکاح پڑھنے سے پہلے فریقین کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔اب خلاصہ یہ کہ صرف منہ کی بات سے نہ تو بیٹا بن سکتا ہے نہ ماں بن سکتی ہے۔مثلا ہم آریوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی شخص غصہ میں آ کر یا کسی دھوکہ سے اپنی عورت کو ماں کہ بیٹھے تو کیا اس کی عورت اس پر حرام ہو جائے گی اور طلاق پڑ جائے گی اور خود بیہ خیال بالمبداہت باطل ہے کیونکہ طلاق تو آریوں کے مذہب میں کسی طور سے پڑ ہی نہیں سکتی خواہ اپنی بیوی کو نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ ماں کہہ دیں یا دادی کہہ دیں۔تو پھر جبکہ صرف منہ کے کہنے سے کوئی عورت ماں یا دا دی نہیں بن سکتی تو پھر صرف منہ کی بات سے کوئی غیر کا نطفہ بیٹا کیونکر بن سکتا ہے اور کیونکر قبول کیا جاتا ہے کہ در حقیقت بیٹا ہو گیا اور اس کی عورت اپنے پر حرام ہوگئی خدا کے کلام میں اختلاف نہیں ہو سکتا پس بلا شبہ یہ بات صحیح ہے کہ اگر صرف منہ کی بات سے ایک آریہ کی عورت اس کی ماں نہیں بن سکتی تو اسی طرح صرف منہ کی بات سے غیر کا بیٹا بیٹا بھی نہیں بن سکتا۔اور دوسری جز جس پر اعتراض کی بنیا د رکھی گئی ہے یہ ہے کہ نیب نے آنحضرت ملے کو قبول نہیں کیا تھا صرف زیر دستی خدا تعالیٰ نے حکم دے دیا۔اس کے جواب میں ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ ایک نہایت بد ذاتی کا افتراء ہے جس کا ہماری کتابوں میں نام و نشان نہیں۔اگر بچے ہیں تو قرآن یا حدیث میں سے دکھلاویں کیسی بے ایمان قوم ہے کہ جھوٹ بولنے سے شرم نہیں کرتی۔اگر افتراء نہیں تو ہمیں بتلا دیں کہاں لکھا ہے کیا قرآن شریف میں یا بخاری اور مسلم میں۔قرآن شریف کے بعد بالاستقلال وثوق کے لائق ہماری دوہی کتا بیں ہیں ایک بخاری اور ایک مسلم۔سو قرآن یا بخاری اور مسلم سے اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ نکاح زینب کے خلاف