آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 330 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 330

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 330 ان بیٹوں کی عورتیں حرام ہیں جو تمہارے صلبی بیٹے ہیں۔جیسا کہ یہ آیت ہے۔وَ جَلَابِل ابنَا بِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ (النساء: ۲۴) یعنی تم پر فقط ان بیٹوں کی جو روان حرام ہیں جو تمہاری پشت اور تمہارے نطفہ سے ہوں۔پھر جبکہ پہلے سے ہی قانون تعلیم قرآنی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہو چکا ہے اور یہ زینب کا قصہ ایک مدت بعد اس کے ظہور میں آیا تو اب ہر یک سمجھ سکتا ہے کہ قرآن نے یہ فیصلہ اسی قانون کے مطابق کیا جو اس سے پہلے منضبط ہو چکا تھا۔قرآن کھولو اور دیکھو کہ زینب کا قصہ اخیری حصہ قرآن میں ہے مگر یہ قانون کہ متبنی کی جو روحرام نہیں ہو سکتی یہ پہلے حصہ میں ہی موجود ہے اور اس وقت کا یہ قانون ہے کہ جب زینب کا زید سے ابھی نکاح بھی نہیں ہوا تھا تم آپ ہی قرآن شریف کو کھول کر ان دونوں مقاموں کو دیکھ لو اور ڈرہ شرم کو کام میں لاؤ۔اور پھر بعد اس کے سورۃ الاحزاب میں فرمایا۔مَا جَعَلَ اللهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَكُمُ الَى تُظهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَتِكُمْ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلَكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللهُ يَقُولُ الْحَقِّ وَهُوَ يَهْدِى السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لِآبَابِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ الله (الاحزاب : ۶۰۵) یعنی خدا تعالیٰ نے کسی کے پیٹ میں دو دل نہیں بنائے پس اگر تم کسی کو کہو کہ تو میرادل ہے تو اس کے پیٹ میں دو دل نہیں ہو جائیں گے۔++ دل تو ایک ہی رہے گا اسی طرح جس کو تم ماں کہہ بیٹھے وہ تمہاری ماں نہیں بن سکتی اور اسی طرح خدا نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو حقیقت میں تمہارے بیٹے نہیں کر دیا۔یہ تو تمہارے منہ کی باتیں ہیں اور خدا بیچ کہتا ہے اور سیدھی راہ دکھلاتا ہے تم اپنے منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کے نام سے پکارویہ تو قرآنی تعلیم ہے مگر چونکہ خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ اپنے پاک نبی کا نمونہ اس میں قائم کر کے پورانی رسم کی کراہت کو دلوں سے دور کر دے سو یہ نمونہ خدا تعالیٰ نے قائم کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام آزاد کردہ کی بیوی کی اپنے خاوند سے سخت نا سازش ہوگئی آخر طلاق تک نوبت پہنچی۔پھر جب خاوند کی طرف سے طلاق مل گئی تو اللہ تعالی نے آنحضرت