آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 327
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 327 اعتراض کئے جاتے تھے اور یا اب تمام ممالک میں اور تمام اقوام میں یہ مسئلہ جاری ہو رہا ہے اور دنیا نے فیصلہ کر دیا ہے کہ طلاق جائز نہ ہونا بہت بڑا ظلم ہے۔بلکہ امریکہ تو طلاق کے جواز میں اسلامی احکام سے بھی آگے نکل گیا ہے۔“ انوارالعلوم جلده اصفحه ۲۶۵ و ۲۶۶) متبنی کی مطلقہ سے شادی کا اعتراض قادیان کے آریہ صاحبان نے آنحضرت پر یہ اعتراض کیا کہ اب دیکھئے کہ لفظ زناکس موقع کے لئے موزوں ہے رسول خدا حضرت محمد صاحب کا اپنے متبنی بیٹے کی بیوی یعنی اپنی ) بہو مسماۃ زینب کی خواہش کرنا اور اس کے معقول عذر پر یہ بہانہ کرنا کہ خدا تعالیٰ نے عرش پر اپنی زبان مبارک سے میرا اور تیرا نکاح پڑھا دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ : الله اے لالہ صاحبان آپ لوگوں نے ہمارے سید و مولی رسول اللہ ﷺ پر جو تمام پر ہیز گاروں اور پاک دلوں کے سردار ہیں زنا کی تہمت لگائی اگر چہ تعزیرات ہند دفعہ ۲۹۸ کی رو سے ایسے شخصوں کی توہین کے مقدمہ میں جو ایک عظیم الشان پیشوا کی نسبت کی گئی ہے۔سزا تو یہ ہے کہ کم سے کم عدالت سے ڈاڑھی اور موچھ منڈوا کر پریس برس کی قید ہوا ور پیچھے کھترانیوں اور مصرانیوں کو بجز نیوگ کرانے کے اور کوئی صورت کا رروائی کے لئے باقی نہ رہے لیکن بالفعل ہم اس امید سے برداشت کرتے ہیں کہ تا شاید تم آئندہ باز آ جاؤ۔اب ہم ان آریوں کے اس پر افترا اعتراض کی بیخ کنی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو انہوں نے زینب کے نکاح کی نسبت تراشا ہے۔ان مفتری لوگوں نے اعتراض کی بنا دو باتیں ٹھہرائی ہیں (۱) یہ کہ متبنی اگر اپنی جو رو کو طلاق دے دیوے تو منشی کرنے والے کو اس عورت سے نکاح جائز نہیں (۲) یہ کہ زینب آنحضرت کے نکاح سے ناراض تھی تو گویا آنحضرت نے زینب کے معقول عذر پر یہ بہانہ گھڑا کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے سو ہم ان دو باتوں کا ذیل میں جواب دیتے ہیں۔