آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 328 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 328

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 328 باب هشتم امر اول کا جواب۔یہ ہے کہ جو لوگ مبنی کرتے ہیں ان کا یہ دھوئی سراسر لغو اور باطل ہے کہ وہ حقیقت میں بیٹا ہو جاتا ہے اور بیٹوں کے تمام احکام اس کے متعلق ہوتے ہیں۔ظاہر ہے کہ قانون قدرت اس بیہودہ دعویٰ کو رد کرتا ہے اس لئے کہ جس کا نطفہ ہوتا ہے اسی کے اعضاء میں سے بچہ کے اعضاء حصہ لیتے ہیں اس کے قومی کے مشابہ اس کے قومی ہوتے ہیں اور اگر وہ انگریزوں کی طرح سفید رنگ رکھتا ہے تو یہ بھی اس سفیدی سے حصہ لیتا ہے اگر وہ حبشی ہے تو اس کو بھی اس سیاہی کا بحرہ ملتا ہے اگر وہ آ تشک زدہ ہے تو یہ بیچارہ بھی اسی بلا میں پھنس جاتا ہے۔غرض جس کا حقیقت میں نطفہ ہے اس کے آثار بچہ میں ظاہر ہوتے ہیں جیسی گیہوں سے گیہوں پیدا ہوتی ہے اور چنے سے چنانکلتا ہے پس اس صورت میں ایک کے نطفہ کو اس کے غیر کا بیٹا قرار دینا واقعات صحیحہ کے مخالف ہے۔ظاہر ہے کہ صرف منہ کے دعوی سے واقعات حقیقیہ بدل نہیں سکتے مثلاً اگر کوئی کہے کہ میں نے سم الفار کے ایک ٹکڑہ کو طباشیر کا لکڑہ کجھ لیا تو وہ اس کے کہنے سے طباشیر نہیں ہو جائے گا اور اگر وہ اس وہم کی بناء پر اسے کھائے گا تو ضرور مرے گا جس حالت میں خدا نے زید کو بکر کے نطفہ سے پیدا کر کے بکر کا بیٹا بنا دیا تو پھر کسی انسان کی فضول کوئی سے وہ خالد کا بیٹا نہیں بن سکتا اور اگر بکر اور خالد ایک مکان میں اکٹھے بیٹھے ہوں اور اس وقت حکم حاکم پہنچے کہ زید جس کا حقیقت میں بیٹا ہے اس کو پھانسی دیا جائے تو اس وقت خالد فی الفور عذر کر دے گا که زید حقیقت میں بکر کا بیٹا ہے میرا اس سے کچھ تعلق نہیں۔یہ ظاہر ہے کہ کسی شخص کے دوباپ تو نہیں ہو سکتے پس اگر مبنی بنانے والا حقیقت میں باپ ہو گیا ہے تو یہ فیصلہ ہونا چاہئے کہ اصلی باپ کس دلیل سے لا دعوی کیا گیا ہے۔ہو جائے مگر اس قابل شرم زنا کاری کے بعد بھی مرد کو اس نطقہ سے کچھ تعلق نہیں کیونکہ وہ غیر کا نطفہ ہے اب چونکہ عقل کسی طرح قبول نہیں کر سکتی کہ متبنی در حقیقت اپنا ہی لڑکا ہو جاتا ہے اس لئے ایسے اعتراض کرنے والے پر واجب ہے کہ اعتراض سے پہلے اس دعوے کو ثابت کرے اور در حقیقت اعتراض تو ہمارا حق ہے کہ کیونکر غیر کا نطفہ جو غیر کے خواص اپنے اندر رکھتا ہے اپنا نطفہ بن سکتا ہے پہلے اس اعتراض کا جواب دیں اور پھر ہم پر اعتراض کریں اور یہ بھی یادر ہے کہ زید جو زینب کا پہلا خاوند تھا وہ در اصل آنحضرت ﷺ کا