آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 326 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 326

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 326 بنت زمعة حين اسنت و خافت آن يفارقها رسول الله قالت يا رسول الله وهبت يومى لعائشة فقبل ذلك منها۔۔۔ورواه ايضًا سعد و سعید ابن منصور والترمذى و عبد الرزاق قال الحافظ في الفتح فتواردت هذه الروايات على انها خشيت الطلاق۔یعنی سودہ بنت زمعہ کو جب اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے اس بات کا خوف ہوا کہ اب شائد میں آنحضرت ﷺ سے جدا ہو جاؤں گی تو اس نے کہا یا رسول اللہ میں نے اپنی نوبت عائشہ کو بخش دی۔آپ نے یہ اس کی درخواست قبول فرمالی۔ابن سعد اور سعید ابن منصو را در ترمذی اور عبد الرزاق نے بھی یہی روایت کی ہے اور فتح الباری میں لکھا ہے کہ اس پر روایتوں کا توارد ہے کہ سو دہ کو آپ ہی طلاق کا اندیشہ ہوا تھا۔اب اس حدیث سے ظاہر ہے کہ دراصل آنحضرت ﷺ سے کوئی ارادہ ظاہر نہیں ہوا بلکہ سودہ نے اپنی پیرانہ سالی کی حالت پر نظر کر کے خود ہی اپنے دل میں یہ خیال قائم کر لیا تھا اور اگر ان روایات کےتو ارداور تظاهر کنظر انداز کر کے فرض بھی کرلیں کہ آنحضرت نے طبعی کراہت کے باعث سودہ کو پیرانہ سالی کی حالت میں پا کر طلاق کا ارادہ کیا تھا تو اس میں بھی کوئی برائی نہیں۔اور نہ یہ امر کسی اخلاقی حالت کے خلاف ہے۔کیونکہ جس امر پر عورت مرد کے تعلقات مخالطت موقوف ہیں۔اگر اس میں کسی نوع سے کوئی ایسی روک پیدا ہو جائے کہ اس کے سبب سے مرداس تعلق کے حقوق کی بجا آوری پر قادر نہ ہو سکے تو ایسی حالت میں اگر وہ اصول تقویٰ کے لحاظ سے کوئی کاروائی کرے تو عند العقل کچھ جائے اعتراض نہیں“۔( نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد نمبر ۹ صفحه ۳۸۰ تا ۳۸۲) ☆ مسئلہ طلاق پر اعتراض ولیم میور نے آنحضور کی طلاق کے بارہ میں تعلیم پر اعتراض کیا اور اس کو بہت خطر ناک فعل قرار دیا ہے۔اس بارہ میں حضرت مصلح موعو د بیان فرماتے ہیں: طلاق کے متعلق تو مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے سیا تو اس پر بڑے زور شور سے