آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 325
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 325 باب هشتم اپنی نجات سے تعبیر کرتی ہیں۔غرضیکہ شادی کے زمانہ میں بھی آپ نے نہایت اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھایا۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں ہم دیکھتے ہیں آپ بیویوں سے ایسا برتاؤ کرتے جو محبت کے ازدیاد کا موجب ہو۔حتی کہ پیالہ کی جس جگہ منہ لگا کر وہ پانی پیتیں بعض اوقات آپ بھی وہیں ہونٹ لگا کر پیتے اور فرماتے یہ محبت بڑھانے کا ذریعہ ہے۔اگر کسی اونچی جگہ چڑھنا ہوتا تو آپ اپنے گھٹنے کا سہارا دیتے۔یورپ کے وہ نادان لوگ جو آج اعتراض کرتے اور کہتے ہیں عورت کی عزت کے لئے الله یہ ضروری ہے ، جب رسول کریم ﷺ سے ایسی بات دیکھتے ہیں تو اسی کی بناء پر آپ کو عیاش کہہ دیتے ہیں۔" انوار العلوم جلد ۲ صفر ۱۳۶۲۰، صفحه ۳۶۳) ☆ اپنی بیوی حضرت سودہ کو پیرانہ سالی کی وجہ سے طلاق پر مستعد ہو گئے پادری فتح مسیح کے اس اعتراض کے جواب میں حضور علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: یہ اعتراض کہ آنحضرت ﷺ اپنی بیوی سودہ کو پیرانہ سالی کے سبب سے طلاق دینے کے لئے مستعد ہو گئے تھے۔سراسر غلط اور خلاف واقعہ ہے اور جن لوگوں نے ایسی روائتیں کی ہیں وہ اس بات کا ثبوت نہیں دے سکے کہ کسی شخص کے پاس آنحضرت ﷺ نے ایسا ارادہ ظاہر کیا پس اصل حقیقت جیسا کہ کتب معتبرہ احادیث میں مذکور ہے یہ ہے کہ خود سودہ نے ہی اپنی پیرانہ سالی کی وجہ سے دل میں یہ خوف کیا کہ اب میری حالت قابل رغبت نہیں رہی ایسا نہ ہو کہ آنحضرت نے باعث طبیعی کراہت کے جو نشاء بشریت کو لازم ہے مجھ کو طلاق دے دیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی امر کراہت کا بھی اس نے اپنے دل میں کجھ لیا ہو اور اس سے طلاق کا اندیشہ دل میں جم گیا ہو۔کیونکہ عورتوں کے مزاج میں ایسے معاملات میں وہم اور وسوسہ بہت ہوا کرتا ہے اس لئے اس نے خود بخودہی عرض کر دیا کہ میں اس کے سوا اور کچھ نہیں چاہتی کہ آپ کی ازواج میں میرا حشر ہو۔چنانچہ نیل الاوطار کے ص ۱۴۰ میں یہ حدیث ہے: قالت السودة