آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 324 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 324

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 324 تو بھی ایسا نمونہ دکھایا کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ کی شادی پر لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ و سال کی عمر میں شادی کی جو ظلم ہے۔اول تو یہ بھی غلط ہے۔عمر کے بارہ میں مختلف روایتیں ہیں اور تحقیق یہی ہے کہ اس وقت آپ کی عمر تیرہ سال کی تھی۔اگر چہ بعض روایتوں میں سترہ سال بھی ہے لیکن تیرہ سال ہی صحیح ہے اور یہ بھی چھوٹی عمر ہی ہے۔اور ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ تکلیف خود انہیں ہی ہو سکتی تھی ، عیسائی مصنفین کو تکلیف ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔تیرہ سال کی عمر میں آپ کی شادی ہوئی اور 9 سال بعد آنحضرت ﷺ کا انتقال ہو گیا۔گو یا بائیس برس کی عمر میں ہی آپ گویا بیوہ ہو گئیں۔اس پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ کی عمر اس شادی کی وجہ سے ہی برباد ہوگئی میگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دل کی گہرائیوں کو ہم ٹولتے ہیں تو اس میں آنحضرت ﷺ کی محبت کا بہت گہر انقش پاتے ہیں۔سالہا سال گزر جاتے ہیں اور آپ کے پاس کثرت سے روپیہ آنے لگتا ہے اور ثابت ہے کہ ایک ایک دن میں لاکھ لاکھ روپیہ آپ کے پاس آیا مگر آپ کی سادگی میں فرق نہیں آیا اور آپ نے وہ سب کا سب شام تیک تقسیم کر دیا۔ایک دن صبح سے شام تک آپ نے قریباً ایک لاکھ روپیہ تقسیم کر دیا۔اس پر ایک سہیلی نے کہا کہ آپ روزہ سے تھیں اگر چار آنہ رکھ لیتیں تو کیا اچھا ہونا۔آپ نے جواب دیا کہ تم نے پہلے کیوں نہ یاد دلایا۔اگر آنحضرت کی محبت کا نقش اس قدر گہرا نہ ہوتا تو آپ روپیہ ملنے پر ضرور یہ طریق بدل دیتیں مگر حالت یہ تھی کہ ایک دفعہ آپ میدہ کی روٹی کھانے لگیں۔نرم نرم پھلکے تھے مگر آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔اور کسی ہمجولی نے دریافت کیا تو فرمایا میں اس لئے روتی ہوں کہ اگر آج آنحضرت زندہ ہوتے تو یہ نرم نرم پھلکے انہیں کھلاتی۔غور کرو یہ کتنا گہرا نقش ہے۔کتنے ہیں جو وفات کے بعد مرنے والوں کو اس طرح یا در رکھتے ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کا ایک ایک لمحہ بتاتا ہے کہ آپ کا دل آنحضرت ﷺ کی محبت سے لبریز تھا۔بعض بد باطن کہتے ہیں کہ آپ نعوذ باللہ عیاش تھے۔کیا عیاش لوگوں کی بیویاں ان کی موت کے بعد اسی طرح ان کے ساتھ اظہار محبت کرتی ہیں؟ وہ تو نفرت اور حقارت سے انہیں دیکھتی ہیں اور ان کی موت کو