آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 323 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 323

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 323 باب هشتم جس کو ایک برس کی عمر سے حیض آنے لگا تھا اور آٹھویں برس حاملہ ہوئی اور آٹھ برس دس مہینہ کی عمر میں لڑکا پیدا ہوا۔اب اے نادان آریو کسی کنوئیں میں پڑا کر ڈوب مرو کہ تحقیق کی رو سے تمہارا ہر یک الزام جھوٹا نکلا۔یہی سزا ایسے لوگوں کی ہے جو ہمیشہ بخل اور تعصب سے بات کرتے ہیں کبھی ساری عمر میں بھی ان کو خیال نہیں آتا کہ کسی سچائی کو بھی قبول کر لیں۔اے غافلو۔کیا تم ہمیشہ زندہ رہو گے کیا کبھی تم پوچھے نہیں جاؤ گے۔کیوں حد سے بڑھتے ہو کچھ اس مالک کا خوف کرو جو کبھی شریر کو بے سزا نہیں چھوڑے گا"۔آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلده اصفی ۶۳ تا ۶۴) ☆ حضرت عائشہ سے شادی پر اعتراض عیسائیوں نے بالخصوص آنحضور کی تعد وازدواج اور حضرت عائشہ کے ساتھ کم عمری میں شادی پر اعتراض کئے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ اس پر بیان فرماتے ہیں: بعض عیسائی مصنفین لکھتے ہیں کہ آپ کے پاس دولت آئی تو آپ بگڑ گئے۔حالانکہ آپ کی حالت یہ تھی کہ جب وفات پائی تو زرہ ، چند صاع ہو کے عوض رہن تھی۔غرض یہ کہ آپ پر غربت اور دولت مندی دونوں زمانے آئے مگر آپ نے ہر حالت میں اچھا نمونہ دکھایا۔آپ کو روپیہ ما مگر پھر بھی آپ نے غربت کو قائم رکھا۔آپ مجر در ہے اور ایسا اعلیٰ نمونہ دکھایا کہ دنیا حیران ہے۔آپ نے ۲۵ برس کی عمر میں شادی کی جو عرب میں بڑی عمر ہے۔کیونکہ وہاں ۱۶ء سے ابریس کا آدمی پو را بالغ ہو جاتا ہے اور اس عمر میں بھی جب آپ نے شادی کی تو چالیس سال کی ایک بیوہ کے ساتھ۔گویا اس زمانہ میں جو امنگوں اور آرزوؤں کا زمانہ ہوتا ہے آپ نے ایسی عورت سے شادی کی جو اپنا زمانہ گزار چکی تھی۔پھر شادی کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ساری دولت آپ کے حوالے کر دی مگر آپ نے سب سے پہلا کام جو کیا وہ یہ تھا کہ اس کے سب غلاموں کو آزاد کر دیا۔گویا جب آپ نے شادی نہ کی تھی اس وقت بھی اعلیٰ نمونہ دکھایا اور جب کی