آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 18 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 18

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 18 میں وہ کہ میرا کوئی نہیں ہے ترے سوا اے میرے والے مصطفی اے سید الوری اے کاش ہمیں سمجھتے نہ ظالم جدا جدا اسی منظوم کلام میں آپ اپنے عشق رسول اظہار اس خوبصورت انداز سے کرتے ہیں: ہر لحظہ بڑھ رہا ہے مرا تجھ سے پیار دیکھ سانسوں میں بس رہا ہے ترا عشق دم بدم میری ہر ایک راہ تری سمت ہے رواں ترے سوا کسی طرف اٹھتا نہیں قدم اے کاش مجھ میں قوت پرواز ہو تو میں اڑتا ہوا بڑھوں تری جانب سوئے حرم محبت رسول ہمیں ہماری گھٹی میں پلائی گئی ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ: کوئی دنیا کی طاقت ہمیں اس محبت سے باز نہیں رکھ سکتی۔اگر اس محبت کے جرم میں گستاخی رسول کی چھری سے ہی ہمیں ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے تو میں آج تمام جماعت کی طرف سے ببانگ دہل یہ اعلان کرتا ہوں کہ جو چاہو کرتے پھرو۔محبت محمد مصطفی ﷺ کو ہمارے دلوں سے نہیں نوچ سکتے اور نہیں نوچ سکتے اور نہیں نوچ سکتے اور میں یہ بھی بتا تا ہوں کہ یہ محبت زندگی کی ضامن ہے۔یہ محبت رکھنے والوں کو کبھی تم دنیا میں ناکام و نامراد نہیں کر سکو گے۔تمہاری ہر کوشش خائب و خاسر رہے گی۔تمہارا ہر ذیل الزام تمہارے منہ پہ لوٹایا جائے گا اورمحبت محمد مصطفی ہے زندہ رہنے کے لئے بنائی گئی ہے اور زندہ رکھنے کے لئے بنائی گئی ہے۔اس سے جو زندگی ہم حاصل کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے کوئی تمہاری طاقت نہیں، کوئی تمہاری استطاعت نہیں ہے کہ اس زندگی کے دل پر پنجہ ما رسکو“۔(خطبات طاہر جلد ۵ صفحه ۵۲۰۰۵۱۹)