آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 17 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 17

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 17 حضرت خلیفہ آنتیح الرابع رحمہ اللہ تعالٰی حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ مسیح الرابع حمہ اللہ تعالی کا دل عشق مصطفی ھے سے لبریز تھا۔اسی عشق کو آپ اپنی جماعت میں پیدا کرنا چاہتے تھے۔خلافت کا بیشتر عرصہ مغرب میں گزرا۔وہاں آنحضرت کی ارفع اور اکمل شان اور اس کی سر بلندی کے لئے تحریر و تقریر کے ذریعہ کوشاں رہے۔شائمین رسول ، سلمان رشد می اور اس کے ہم نواؤں کے آپ نے دلیرانہ انداز میں جواب دیئے اور آنحضور کا سچا اور خوبصورت چہرہ دنیا کو دکھایا اور اپنے آقا کی طرف کاسچا اٹھنے والے ہر تیر کو اپنے اوپر لے کر دشمن کی طرف واپس کیا۔آپ اپنے منظوم کلام میں اپنی محبت رسول کا اظہار ان الفاظ میں فرماتے ہیں:۔اے شاہ کی و مدنی سید الوری تجھ سا مجھے عزیز نہیں کوئی دوسرا تیرا غلام در ہوں ترا ہی اسیر عشق تو تو میرا بھی حبیب ہے محبوب کبریا تیرے جلو میں ہی مرا اٹھتا ہے ہر قدم چلتا ہوں خاک پا کو تیری چومتا ہوا میرے دل کا نور ہے اے جانِ آرزو روشن تجھی سے آنکھ ہے اے نیر ہدی ہیں جان و جسم ، سو تری گلیوں پہ ہے نار اولاد ہے سو وہ تیرے قدموں پہ ہے فدا تو وہ کہ میرے دل سے جگر تک اتر گیا