آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 322 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 322

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 322 باب هشتم اور خبیث لوگوں نے سخت افترا کئے ہیں۔چنانچہ ان پلیدوں نے لعنة الله عليهم پہلے نبی کو تو زانی قرار دیا جیسا کہ آپ نے اور دوسرے کو ولد الزنا کہا جیسا کہ پلید طبع یہودیوں نے۔آپ کو چاہئے کہ ایسے اعتراضوں سے پر ہیز کریں ☆ (نو رالقرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد نمبر ۹ صفحه ۳۸۰) قادیان کے آریہ صاحبان نے آنحضور پر یہ اعتراض بھی کیا کہ بھلا اس مسئلہ پر بھی کبھی توجہ فرمائی ہے کہ حضرت رسول خدا محمد صاحب کا اپنی بیوی حضرت عائشہ نو سالہ سے ہم بستر ہونا کیا اولا د پیدا کرنے کی نیت سے تھا۔اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں تحریر فرماتے ہیں:۔یہ اعتراض محض جہالت کی وجہ سے کیا گیا ہے۔کاش اگر نا دان معترض پہلے کسی محقق ڈاکٹر یا طبیب سے پوچھ لیتا تو اس اعتراض کرنے کے وقت بجز اس کے کسی اور نتیجہ کی توقع نہ رکھتا کہ ہر یک حقیقت شناس کی نظر میں نادان اور احمق نابت ہوگا۔ڈاکٹر مون صاحب جو علوم طبیعی اور طبابت کے ماہر اور انگریزوں میں بہت مشہور محقق ہیں وہ لکھتے ہیں کہ گرم ملکوں میں عورتیں آٹھ یا نو برس کی عمر میں شادی کے لائق ہو جاتی ہیں۔کتاب موجود ہے تم بھی اسی جگہ ہو اگر طلب حق ہے تو آکر دیکھ لو۔اور حال میں ایک ڈاکٹر صاحب جنہوں نے کتاب معدن الحکمت تالیف کی ہے۔وہ اپنی کتاب تدبیر بقا نسل میں بعینہ یہی قول لکھتے ہیں جو اوپر نقل ہو چکا۔اور صفحہ ۴۶ میں لکھتے ہیں کہ ڈاکٹروں کی تحقیقات سے یہ ثا بت ہے کہ نو یا آٹھ یا پانچ یا چھ برس کی لڑکیوں کو حیض آیا۔یہ کتاب بھی میرے پاس موجود ہے جو چاہے دیکھ لے۔ان کتابوں میں کئی اور ڈاکٹروں کا نام لے کر حوالہ دیا گیا ہے اور چونکہ یہ تحقیقا تیں بہت مشہور ہیں اور کسی دانا پر مخفی نہیں اس لئے زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔اور حضرت عائشہ کا نو سالہ ہونا تو صرف بے سروپا اقوال میں آیا ہے۔کسی حدیث یا قرآن سے ثابت نہیں لیکن ڈاکٹر واہ صاحب کا ایک چشم دید قصہ لینسٹ نمبر ۱۵ مطبوعہ اپریل ۱۸۸۱ء میں اس طرح لکھا ہے کہ انہوں نے ایسی عورت کو جتایا