آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 321 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 321

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 321 باب علم زبانی تلقین تو بہ کرتے تھے مگر کون عقلمند اور پرہیز گارایسے شخص کو پاک باطن سمجھے گا جو جوان عورتوں کے چھونے سے پر ہیز نہیں کرتا ایک کنجری خوبصورت ایسی قریب بیٹھی ہے کو یا بغل میں ہے کبھی ہاتھ لمبا کر کے سر پر عطرمل رہی ہے کبھی پیروں کو پکڑتی ہے اور کبھی اپنے خوشمنا اور سیاہ بالوں کو پیروں پر رکھ دیتی ہے اور گود میں تماشہ کر رہی ہے میسوع صاحب اس حالت میں وجد میں بیٹھے ہیں اور کوئی اعتراض کرنے لگے تو اس کو چھڑک دیتے ہیں۔اور طرفہ یہ کہ عمر جوان اور شراب پینے کی عادت اور پھر مجر و اور ایک خوبصورت کسی عورت سامنے پڑی ہے۔جسم کے ساتھ جسم لگا رہی ہے۔کیا یہ نیک آدمیوں کا کام ہے اور اس پر کیا دلیل ہے کہ اس کسی کے چھونے سے میسوع کی شہوت نے جنبش نہیں کی تھی۔افسوس کہ یسوع کو یہ بھی میسر نہیں تھا کہ اس قلعہ پر نظر ڈالنے کے بعد اپنی کسی بیوی سے صحبت کر لیتا۔کم بخت زانیہ کے چھونے سے اور ناز و ادا کرنے سے کیا کچھ نفسانی جذبات پیدا ہوئے ہوں گے اور شہوت کے جوش نے پورے طور پر کام کیا ہو گا اسی وجہ سے یسوع کے منہ سے یہ بھی نہ نکلا کہ اے حرام کا رعورت مجھ سے دور رہ اور یہ بات انجیل سے ثابت ہوتی ہے کہ وہ عورت طوائف میں سے تھی اور زنا کاری میں سارے شہر میں مشہور تھی۔(نورالقرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد نمبر ۹ صفحه ۲۴۴۴ ۴۴۹) کم عمر بچی سے شادی کا اعتراض پادری فتح مسیح نویرس کی لڑکی یعنی حضرت عائشہ سے شادی کو نعوذ باللہ زنا کے حکم میں لایا ہے اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: پادری صاحب ! آپ کا یہ خیال کہ تو پریس کی لڑکی سے جماع کرنا زنا کے حکم میں ہے سراسر غلط ہے آپ کی ایمانداری یہ تھی کہ آپ انجیل سے اس کو ثا بت کرتے۔انجیل نے آپ کو دھکے دیئے اور وہاں ہاتھ نہ پڑا تو گورنمنٹ کے پیروں پر آپڑے۔یا درکھیں کہ یہ گالیاں محض شیطانی تعصب سے ہیں۔جناب مقدس نبوی کی نسبت فسق و فجور کی تہمت لگانا یہ افترا شیطانوں کا کام ہے ان دو مقدس نبیوں پر یعنی آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح علیہ السلام پر بعض بدذات