آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 320 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 320

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 320 حفظ ماتقدم کے طور پر کوئی دوا استعمال کرتا ہے تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کو ہیضہ ہو گیا ہے یا ہیضہ کے آٹا ر اس میں ظاہر ہو گئے ہیں بلکہ یہ بات اس کی دانشمندی میں محسوب ہوگی اور سمجھا جائے گا کہ وہ اس بیماری سے طبعا نفرت رکھتا ہے اور اس سے دور رہنا چاہتا ہے۔اس بات میں آپ کے ساتھ کوئی بھی اتفاق نہیں کرے گا کہ تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرنا کمال کے بر خلاف ہے۔اگر انبیاء علیہم السلام تقویٰ کا نمونہ نہ دکھلاویں تو اور کون دکھلاوے جو خدا ترسی میں سب سے بڑھ کر ہوتا ہے وہی سب سے بڑھ کر تقو ملی بھی اختیار کرتا ہے وہ بدی سے اپنے تئیں دور رکھتا ہے وہ ان راہوں کو چھوڑ دیتا ہے جس میں بدی کا احتمال ہوتا ہے مگر آپ کے یسوع صاحب کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کب تک ان کے حال پر روویں کیا یہ مناسب تھا کہ وہ ایک زانیہ عورت کو یہ موقعہ دیتا کہ وہ عین جوانی اور حسن کی حالت میں ننگے سر اس سے مل کر بیٹھتی اور نہایت نا زا در نخرہ سے اس کے پاؤں پر اپنے بال ملتی اور حرام کاری کے عطر سے اس کے سر پر مالش کرتی اگر یسوع کا دل بد خیالات سے پاک ہوتا تو وہ ایک کسی عورت کو نز دیک آنے سے ضرور منع کرتا مگر ایسے لوگوں کو حرام کار عورتوں کے چھونے سے مزہ آتا ہے۔وہ ایسے نفسانی موقعہ پر کسی ناصح کی نصیحت بھی نہیں سنا کرتے۔دیکھو یسوع کو ایک غیرت مند بزرگ نے نصیحت کے ارادہ سے روکنا چاہا کہ ایسی حرکت کرنا مناسب نہیں مگر یسوع نے اس کے چہرہ کی ترش روئی سے سمجھ لیا کہ میری اس حرکت سے یہ شخص بیزار ہے تو ریموں کی طرح اعتراض کو ہاتوں میں ٹال دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ کنجری بڑی اخلاص مند ہے۔ایسا اخلاص تو تجھ میں بھی نہیں پایا گیا۔سبحان اللہ یہ کیا عمدہ جواب ہے۔یسوع صاحب ایک زنا کار عورت کی تعریف کر رہے ہیں کہ بڑی نیک بخت ہے۔چھوٹی خدائی کا اور کام ایسے۔بھلا جو شخص ہر وقت شراب سے سرمست رہتا ہے اور کنجریوں سے میل جول رکھتا ہے اور کھانے پینے میں بھی ایسا اول نمبر کا جو لوگوں میں یہ اس کا نام ہی پڑ گیا ہے کہ یہ کھاؤ پیو ہے۔اس سے کس تقویٰ اور نیک بختی کی امید ہو سکتی ہے ہمارے سید و مولی افضل الانبیاء خیر الاصفیاء محمد مصطفی ﷺ کا تقویمی دیکھئے کہ وہ ان عورتوں کے ہاتھ سے بھی ہاتھ نہیں ملاتے تھے جو پاک دامن اور نیک بخت ہوتی تھیں اور بیعت کرنے کے لئے آتی تھیں بلکہ دور بیٹھا کر صرف