آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 319
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 319 باب ہشتم اور نافرمانی پر ایک سیکنڈ کے لئے بھی دلی عزیمت نہیں کر سکتے اور ایسا کرنا ان کے لئے کہائر ذنوب کی طرح ہے لیکن انسانی قومی اپنے خواص اُن میں بھی دکھلا سکتے ہیں کو وہ بد خطرات پر قائم ہونے سے انگلی محفوظ رکھے گئے ہیں مثلاً اگر ایک نبی بشدت بھوکا ہوا اور راہ میں وہ بعض درخت پھلوں سے لدے ہوئے پائے تو یہ تو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ وہ بغیر اجازت ما لک پھلوں کی طرف ہاتھ لمبا نہیں کرے گا اور نہ دل میں ان پھلوں کے توڑنے کے لئے عزیمت کرے گا لیکن یہ خیال اس کو آسکتا ہے۔کہ اگر یہ پھل میری ملک میں سے ہوتے تو میں ان کو کھا سکتا اور یہ خیال کمال کے منافی نہیں۔آپ کو یاد ہو گا کہ آپ کے خدا صاحب تھوڑی سی بھوک کے عذاب پر صبر نہ کر کے کیونکر انجیر کے درخت کی طرف دوڑے گئے کیا آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ درخت ان کا یا ان کے والد صاحب کی ملک میں سے تھا۔پس جو شخص بیگانہ درخت کو دیکھ کر اپنے نفس پر غالب نہ آسکا اور پیٹ کو بھینٹ چڑھانے کے لئے اس کی طرف دوڑا گیا وہ خدا تو کیا بلکہ بقول آپ کے فردا کمل بھی نہیں۔الغرض کسی کے دل میں یہ خیال گذرنا کہ یہ چیز خوبصورت ہے یہ ایک علیحدہ امر ہے جس کو خدا نے آنکھیں دی ہیں جیسے وہ کانٹے اور پھول میں فرق کر سکتا ہے۔ایسا ہی وہ خوبصورت اور بدصورت میں فرق کر سکتا ہے آپ کے خدا صاحب کو شاید یہ قوت ممیزہ فطرت سے نہیں ملی ہو گی مگر پیٹ کی شہوت کے لئے تو انجیر کے درخت کی طرف دوڑے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ کس کا انجیر ہے۔تعجب کہ ایک شرابی اور کھاؤ پیو کو شہوت پرست نہ کہا جائے اور وہ پاک ذات جس کی زندگی اور جس کا ہر ایک فعل خدا کے لئے تھا اس کا نام اس زمانہ کے پلید طبع شہوت پرست رکھیں عجب تاریکی کا زمانہ ہے۔یہ اسلام کی اعلیٰ تعلیم کا ایک نمونہ ہے کہ ہرگز قصد اکسی عورت کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھو کہ یہ بدنظری کا پیش خیمہ ہے اور اگر اتفاقا کسی خوبصورت عورت پر نظر پڑے اور وہ خوبصورت معلوم ہو تو اپنی عورت سے صحبت کر کے اس خیال کو ٹال دو۔خوب یا درکھو کہ یہ تعلیم اور یہ حکم حفظ ما تقدم کے طور پر ہے جو شخص مثلاً ہینہ کے دنوں میں ہیضہ سے بچنے کے لئے