آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 318
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 318 عورت سے صحبت کر لے۔تا کہ کوئی خطرہ بھی دل میں گذرنے نہ پائے اور بطور حفظ ما تقدم علاج ہو جائے۔پس ممکن ہے کہ کسی صحابی نے اس حدیث کے سننے کے بعد دیکھا ہو کہ آنحضرت میں ہے کے کسی راہ میں کوئی جوان عورت سامنے آگئی اور پھر اس کو یہ بھی اطلاع ہو گئی کہ اس وقت کے قریب ہی آنحضرت ﷺ نے اتفاقا اپنی بیوی سے صحبت کی تو اس نے اس اتفاقی امر پر اپنے اجتہاد۔سے اپنے گمان میں ایسا ہی سمجھ لیا ہو کہ اس حدیث کے موافق آنحضرت ملے نے بھی عمل کیا۔پھر اگر فرض بھی کر لیں کہ وہ قول صحابی کا صحیح تھا تو اس سے کوئی بد نتیجہ نکالنا کسی بد اور خبیث آدمی کا کام ہے بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اس بات پر بہت حریص ہوتے ہیں کہ ہر نیک نیکی اور قومی کے کام کو عملی نمونہ کے پیرا یہ میں لوگوں کے دلوں میں بٹھا دیں۔پس بسا اوقات وہ تنزل کے طور پر کوئی ایسا نیکی اور تقوی کا کام بھی کرتے ہیں جس میں محض عملی نمونہ دکھانا منظور ہوتا ہے اور ان کے نفس کو اس کی کچھ بھی حاجت نہیں ہوتی جیسا کہ ہم قانون قدرت کے آئینہ میں یہ بات حیوانات میں بھی پاتے ہیں۔مثلاً ایک مرغی صرف مصنوعی طور پر اپنی منقار دانہ پر اس غرض سے مارتی ہے کہ اپنے بچوں کو سکھا دے کہ اس طرح دانہ زمین پر سے اٹھانا چاہئے سو عملی نمونہ دکھانا کامل معلم کے لئے ضروری ہوتا ہے اور ہر ایک فعل معلم کا اس کے دل کی حالت کا معیار نہیں ہونا ماسوا اس کے ایک خوبصورت کو اگر اتفاقاً اس پر نظر پڑ جائے خوبصورت سمجھنا نفس الامر میں کوئی بات عیب کی نہیں۔ہاں بد خطرات کامل نقدس کے برخلاف ہیں لیکن جو ملخص بد خطرات سے پہلے حفظ ما تقدم کے طور پر تقویٰ کی دقیق راہوں پر قدم مارے نا خطرات سے دور رہے تو کیا ایسا عمل کمال کے منافی ہوگا۔یہ تعلیم قرآن شریف کی نہایت اعلیٰ ہے کہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ أَنفُسِكُمْ (الحجرات : ۱۴) یعنی جس قد ر کوئی تقومی کی دقیق را ہیں اختیار کرے اس قد ر خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کا زیادہ مرتبہ ہوتا ہے پس بلا شبہ یہ نہایت اعلیٰ مرتبہ تقویٰ کا ہے کہ قبل از خطرات خطرات سے محفوظ رہنے کی تدبیر بطور حفظ ما تقدم کی جائے۔اور اگر یہ دعوئی ہو کہ کاملین بہر حال خطرات سے محفوظ رہتے ہیں ان کو نذیر کی حاجت نہیں تو یہ دعوی سر اس حماقت اور قصور معرفت کی وجہ سے ہوگا کیونکہ انبیاء علیہم السلام کسی معصیت