آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 317 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 317

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 317 غیر عورت کود یکھ کر نفس پر کنٹرول نہ رہا تو اکمل کیونکر ہو سکتے ہیں پادری فتح مسیح نے یہ اعتراض یوں کیا ہے کہ محمد صاحب کی ایک غیر عورت پر نظر پڑی۔تو آپ نے گھر میں آکر اپنی بیوی مسودہ سے خلوت کی پس جو شخص غیر عورت کو دیکھ کر اپنے نفس پر غالب نہیں آسکتا۔جب تک اپنی عورت سے خلوت نہ کرے اور اپنے نفس کی حرص کو پورا نہ کر تو وہ فردا کمل کیونکر ہو سکتا ہے۔اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : 35 میں کہتا ہوں کہ جس حدیث کے معترض نے الٹے معنے سمجھ لئے ہیں وہ صحیح مسلم میں ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں۔عن جابر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى - امرأة فاتي امرأته زينب وهى تمعسُ منيّة لها فقضى حاجتہ۔اس حدیث میں سودھ کا کہیں ذکر نہیں اور معنے حدیث کے یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو الله دیکھا۔پھر اپنی بیوی زینب کے پاس آئے اور وہ چمڑہ کو مالش کر رہی تھی۔سو آنحضرت ﷺ نے اپنی حاجت پوری کی۔اب دیکھو کہ حدیث میں اس بات کا نام ونشان نہیں کہ آنحضرت ﷺ کو اس عورت کا حسن و جمال پسند آیا بلکہ یہ بھی ذکر نہیں کہ وہ عورت جوان تھی یا بڑھی تھی اور یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ آنحضرت نے اپنی بیوی سے آکر صحبت کی۔الفاظ حدیث صرف اس قدر ہیں کہ اس سے اپنی حاجت کو پورا کیا اور لفظ قضى حاجته لغت عرب میں مباشرت سے خاص نہیں ہے۔قضاء حاجت پاخانہ پھرنے کو بھی کہتے ہیں اور کئی معنوں کے لئے مستعمل ہوتا ہے۔یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی بیوی سے صحبت کی تھی۔ایک عام لفظ کو کسی خاص معنی میں محدود کرنا صریح شرارت ہے۔علاوہ اس کے آنحضرت ﷺ کی زبان سے یہ بات مروی نہیں کہ میں نے ایک عورت کو دیکھ کر اپنی بیوی سے صحبت کی۔اصل حقیقت صرف اس قدر ہے کہ مسلم میں جائہ سے ایک حدیث ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے۔اور وہ اس کی نظر میں خوبصورت معلوم ہو تو بہتر ہے کہ فی الفور گھر میں آکرانی