آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 16 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 16

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 16 14 احمدیت کو وہ قبول کر رہے ہیں بڑی تیزی کے ساتھ اور پہلی خوشکن تبدیلی ان کے اندر یہ پیدا ہوتی ہے کہ احمدیت کو قبول کرنے کے ساتھ ہی وہ عاشق محمد ﷺ بن جاتے ہیں یعنی اس طرح عشق کے ساتھ درود بھیجتے ہیں کہ ان کو چین نہیں آتا درود پڑھے بغیر۔اپنی لاریوں کے اوپر لاؤڈ سپیکر لگائے شہروں کے گلی کوچوں میں صَلِّ عَلَى نَبِيِّنَا صل علی محمد گاتے پھر رہے ہوتے ہیں۔(بے دھڑک، بے فکر ) اور بڑی برکتیں جماعت وہاں حاصل کر رہی ہے اور ہر وہ جواحمد بیت میں داخل ہو گا خلوص دل کے ساتھ محمد لانے پر درود بھیجنے والا ہو گا۔+++ خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۵۲۶) حضرت خلیفتہ امسح الثالث" کے دل میں عشق رسول تھا ٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح موجزن تھا۔۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی میں جب جماعت احمدیہ کی طرف سے مؤقف پیش کرنے کے لئے آپ تشریف لے گئے وہاں آنحضور کے بلند مقام خاتم النبیین کا بیان آپ نے فرمایا اور جماعت آنحضور کے ساتھ جو عشق رکھتی ہے اس کا اظہار بآواز بلند فرمایا۔اٹارنی جنرل کے سوالات ختم ہوئے تو اس نے کہا کہ آپ کچھ کہنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں۔چنانچہ آخر پر آپ نے جن الفاظ میں قومی اسمبلی میں اپنے دل کا حال بیان کیا وہ وجد آفریں اور عشق مصطفی میں ڈوبا ہوا ہے۔آپ نے فرمایا: ” میں صرف ایک بات آپ کی اجازت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر دل کی گہرائیاں چیر کر میں آپ کو دکھا سکوں تو وہاں میرے اور میری جماعت کے دل میں اللہ تعالیٰ جبکہ اسلام نے اسے پیش کیا ہے دنیا کے سامنے اور حضرت خاتم الانبیا محمد ﷺ کی محبت اور عشق کے سوا کچھ نہیں پائیں گے۔شکریہ" (خصوصی کمیٹی میں کیا گزری از ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صفحه ۴۴)