آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 313
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 313 باب ششم پیش کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔اس کے بارہ میں حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں: آج یورو چین مصنف بڑے زور سے لکھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ اگر دنیا میں کامیاب ہو گئے تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔قیصر کی حکومت اس وقت اپنے اندرونی زوال کی وجہ سے ٹوٹ رہی تھی۔کسری کی حکومت میں ضعف و اختلال کے آثار پیدا ہو چکے تھے اور سب لوگ سمجھ الله رہے تھے کہ یہ حکومتیں اب جلد مٹ جانے والی ہیں۔ایسی حکومتوں پر اگر محمد رسول اللہ ہے غالب آگئے تو اس میں کوئی ایسی بات نہیں جسے معجزہ قرار دیا جاسکے مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا عرب کی حالت قیصر و کسری کی حکومتوں سے اچھی تھی؟ اگر اچھی ہوتی تب تو کہا جا سکتا تھا کہ چونکہ عرب کی حالت اچھی تھی اور قیصر و کسریٰ کی حالت خراب تھی اس لئے اہل عرب نے قیصر و کسری کی حکومتوں کو تاراج کر دیا۔مگر ہر شخص جو تاریخ سے معمولی واقفیت بھی رکھتا ہے جانتا ہے کہ قیصر و کسری کے مقابلہ میں عرب کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی۔پس سوال یہ ہے کہ کیا قیصر وکسریٰ کی حکومتوں نے عرب کے مقابلہ میں ہی ٹوٹنا تھا اور پھر ان عربوں کے مقابلہ میں جن کا اپنا حال خراب تھا۔اور کیا عرب کے لوگوں میں سے بھی اس شخص کے ہاتھ سے قیصر وکسریٰ کی حکومتوں نے پاش پاش ہونا تھا جس کو کچلنے کے لئے خود عرب کے لوگ کھڑے ہو گئے تھے؟ اور وہ سمجھتے تھے کہ قیصر و کسریٰ تو الگ رہے ، عرب کے لوگ تو الگ رہے، صرف مکہ کے رہنے والے ہی اس کو کچلنے کے لئے کافی ہیں۔ہر شخص جو حالات پر غور کر کے صحیح نتائج اخذ کرنے کا ملکہ اپنے اندر رکھتا ہے وہ ایک لمحہ کے لئے بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کو وہ اکیلا شخص پاش پاش کرنے کی اپنے اندر اہلیت رکھتا تھا۔جس کے متعلق خود مکہ کی بستی والے یہ سمجھتے تھے کہ کہ یہ ہمارے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا ہم اسے کچل کر رکھ دیں گے۔مگر جب مکہ کی بہتی والے یہ کہ رہے تھے کہ ہم اس کو مٹادیں گے۔اس وقت وہ اپنی کمزوری کے باوجود دنیا کو پکار کر کہتا تھا کہ مکہ اور عرب تو کیا ہے میں قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کو بھی مٹا دوں گا۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ جیسا کہ اس