آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 312 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 312

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 312 باب ششم سے جاتا ہوں۔اس کے بعد کفار نے کس قدر زور آپ کو مدینہ میں کمزور کرنے کے لئے لگایا۔مگر کس طرح آنا فانا آپ کا زور بڑھتا چلا گیا اور آخر کفار تباہ ہوئے۔اسے کون اتفاقی امر کہہ سکتا ہے؟ کون طبیعی نتائج کہ سکتا ہے؟ خصوصاً جبکہ قبل از وقت پیشگوئی بھی کر دی گئی تھی۔مسیحی مصنف یہ تو ثابت کر سکتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے کسرئی اور قیصر پر حملہ کیا ان کی حکومتیں تنزل کی طرف جارہی تھیں۔مگر سوال یہ نہیں کہ محمد رسول اللہ اللہ کے اتباع نے جب ایران اور روم پر حملہ کیا تھا اس وقت ایرانی اور رومی حکومت کی مسلمانوں کے مقابل پر کیا حیثیت تھی۔بلکہ سوال یہ ہے کہ جب محمد رسول اللہ سلم نے مکہ میں بیٹھے اپنی فتح اور منکرین کی شکست کی خبر دی تھی اس وقت کون سی طاقت آپ کے پاس تھی ؟ اگر خدا نے آپ کو وہ طاقت دی جس نے ایک طرف عرب کونہ وبالا کر دیا اور دوسری طرف ایران و روم کو تو اس کا نام معجزہ نہیں تو اور کس چیز کا نام معجزہ ہوا کرتا ہے؟ یہ پیشگوئی مکی زندگی کے آخر میں کی گئی تھی اور سب سے پہلی فتح بدر کے موقع پر ہوئی۔گویا کوئی اڑھائی تین سال بعد اور فتح مکہ کا واقعہ اس پیشگوئی کے بعد کوئی نو دس سال بعد ہوا۔لیکن اس آیت میں فتح کے وقت کی خبر ان الفاظ میں دی گئی ہے کہ آنکھ جھپکتے بلکہ اس سے بھی پہلے یہ واقعہ ہو گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں اس قسم کے الفاظ کے معنے قریب کے زمانہ کے ہوتے ہیں۔ضروری نہیں کہ پلک جھپکنے سے پلک جھپکنا ہی مراد ہو۔بعض لوگ ایسے الفاظ پیشگوئیوں میں دیکھ کر اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں اور الہامی زبان کے محاورات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔( تفسیر کبیر جلد ۴ صفحه ۲۰۷، ۲۰۸) مخالفین اسلام نے آپ کی معجزانہ کامیابی کو نہ ماننے کے بہانے میں اس کی مادی تو جیہات