آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 311
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 311 باب ششم دیتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ آپ کے دشمنوں کی تباہی ایک طبعی امر او را تفاقی حادثہ تھا۔آپ آیت مذکورہ کی تشریح میں فرماتے ہیں: اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جب محمد رسول اللہ کے دشمن تباہ ہوں گے تو بعد میں آنے والے لوگ اس واقعہ کی قد رسم کرنے کے لئے کہیں گے کہ آپ کے دشمنوں کی تباہی ایک اتفاقی حادثہ تھا یا یہ کہ ان کے حالات ہی ایسے تھے کہ ہلاک ہو جاتے۔چنانچہ آج کل کے مسیحی مصنف اس مضمون پر بہت ہی زور دیا کرتے ہیں اور آپ کے مخالفوں کی ہلاکت کو طبیعی امور کا نتیجہ قرار دیا کرتے ہیں۔دیکھو قرآن کریم کا اتارنے والا عالم الغیب اس آیت میں کس طرح ان لوگوں کے اعتراض کا جواب دیتا ہے۔آیت کو شروع غیب کا علم رکھنے کے دعوئی سے کرتا ہے اور پھر کفار کی ہلاکت کی خبر دیتا ہے۔اور ختم اس پر کرتا ہے کہ یہ سب کچھ اتفاقی نہ ہوگا بلکہ ہماری قدرت کے ذریعہ سے ہوگا۔کس طرح اس آیت میں ایک طرف تو مکہ میں رہتے ہوئے جبکہ کفار کے ظلم زوروں پر تھے اور مسلمانوں کے پاس کوئی طاقت نہ تھی وہ ہجرت پر مجبور ہو رہے تھے۔فرماتا ہے کہ ہم غیب کا علم رکھنے والے خدا تم کو بتا دیتے ہیں کہ کفار کی ہلاکت کا وقت اب آن پہنچا اور یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ ان کی تباہی ہماری قدرت کے ذریعہ سے ہوگی اور ان حالات کے ذریعہ سے جو انسانی طاقت میں نہیں۔اب دیکھو کس طرح اس آیت کے نزول کے بعد مدینہ کے سب لوگ مسلمان ہو گئے۔حالانکہ پہلے صرف چند آدمی مسلمان ہوئے تھے اور کس طرح خود کفار نے محمد رسول اللہ کو مد سینہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کیا اور نہ آپ مکہ کو چھوڑنے پر آمادہ نہ تھے۔صرف اسی وقت آپ نے مکہ چھوڑا جبکہ کفار نے آپ کو قتل کر دینے کا فیصلہ کر لیا اور پھر اسی رات آپ وہاں سے نکلے بلکہ اس وقت نکلے جبکہ کفار نے آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔کو یا کفار پر آخری حجت پوری کر دی کہ میں مکہ کو چھوڑنا نہیں چاہتا مگر چونکہ تم نے میرے لئے اور کوئی راستہ نہیں چھوڑا اس لئے یہاں