آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 310 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 310

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 310 باب ششم آنحضرت جو اسی زمانہ میں تھے جن کو یہ خبریں کو یا نقارہ کی آواز سے پہنچ چکی تھیں چپ رہے اور کیوں آنحضرت ﷺ سے مواخذہ نہ کیا کہ آپ نے کب چاند کو دوٹکڑے کر کے دکھایا اور کب ہم نے اس کو جادو کہا اور اس کے قبول سے مونہہ پھیرا اور کیوں اپنے مرتے دم تک خاموشی اختیار کی اور مونہہ بند رکھایاں تک کہ اس عالم سے گزر گئے کیا ان کی یہ خاموشی جو ان کی مخالفانہ حالت اور جوش مقابلہ کے بالکل بر خلاف تھی اس بات کا یقین نہیں دلاتے کہ کوئی ایسی سخت روک تھی جس کی وجہ سے کچھ بول نہیں سکتے تھے مگر بجر ظہور سچائی کے اور کون سی روک تھی یہ مجزہ مکہ میں ظہور میں آیا تھا اور مسلمان ابھی بہت کمزور اور غریب اور عاجز تھے پھر تعجب یہ کہ ان کے بیٹوں یا پوتوں نے بھی انکار میں کچھ زبان کشائی نہ کی حالانکہ ان پر واجب ولازم تھا کہ اتنا بڑا دعویٰ اگر افتر محض تھا اور صدہا کوسوں میں مشہور ہو گیا تھا اس کی رد میں کتا ہیں لکھتے اور دنیا میں شائع اور مشہور کرتے اور جبکہ ان لاکھوں آدمیوں عیسائیوں، عربوں، یہودیوں، مجوسیوں وغیرہ میں سے رڈ لکھنے کی کسی کو جرات نہ ہوئی اور جو لوگ مسلمان تھے وہ علانیہ ہزاروں آدمیوں کے روبر و چشم دید گواہی دیتے رہے جن کی شہادتیں آج تک اس زمانہ کی کتابوں میں مندرج پائی جاتی ہیں تو یہ صریح دلیل اس بات پر ہے کہ مخالفین ضرور شق القمر مشاہدہ کر چکے تھے اور رڈ لکھنے کے لئے کوئی بھی گنجائش باقی نہیں رہی تھی اور یہی بات تھی جس نے ان کو منکرانہ شور نخونا سے چپ رکھا تھا سو جبکہ اسی زمانہ میں کروڑہا تخلوقات میں شق القمر کا معجزہ شیوع پا گیا مگر ان لوگوں نے مجلت زدہ ہو کر اس کے مقابلہ پر دم بھی نہ مارا تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس زمانہ کے مخالفین اسلام کا چپ رہنا شق القمر کے ثبوت کی دلیل ہے نہ کہ اس کے ابطال کی۔سرمه چشم آریه، روحانی خزائن جلد نمبر ۲ صفیع ۱۲ تا ۱۲۴) آپ کے دشمنوں کی تباہی کو اتفاقی حادثہ کہنے کا اعتراض سورۃ النحل کی آیت ۷۸ کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود من الفین کے اس اعتراض کا جواب