آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 309
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 309 ☆ باب ششم مباحثہ امرتسر ( جنگ مقدس) کے دوران پادری عبد اللہ آتھم نے یہ اعتراض بھی پیش کیا کہ نبی اسلام کا چھوٹا یا بڑا انجزہ ثابت نہیں ہوا۔اس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہا السلام نے ان الفاظ میں دیا: قرآن معجزات سے بھرا ہے اور خود وہ معجزہ ہے توجہ سے دیکھیں اور پیشگوئیاں تو اس میں دریا کی طرح بہ رہی ہیں۔اسلام کے غلبہ کی ضعیف اسلام کے وقت خبر دی۔سلطنت روم کے غلبہ کی اُن کے مغلوب ہونے کے پہلے خبر دی۔شق القمر کا معجزہ بھی موجود ہے اگر نظام کے مخالف وسوسہ گزرے تو یوشع بن نون اور یسعیاہ نبی کی نظیر دیکھ لیجئے مگر حضرت مسیح کے معجزات کا ہمیں کچھ پتہ نہیں لگتا۔بہت حسدا کے حوض نے اُن کی رونق کھو دی۔پیشگوئیاں نری انکل معلوم ہوتی ہیں اور زیادہ افسوس یہ ہے کہ بعض پوری بھی نہ ہو ئیں مثلا یہ پیشگوئی کب اور کس وقت پوری ہوئی کہ تم سے ابھی بعض نہیں مریں گے کہ میں آسمان پر سے اتر آؤں گا۔بادشاہت کہاں ملی جس کے لئے تلواریں خریدی گئی تھیں۔بارہ حواریوں کو بہشتی تختوں کا وعدہ ہوا تھا یہودا اسکر یوطی کو تخت کہاں ملا۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد نمبر ۶ صفحه ۲۷۹) آنحضور کے معجزہ شق القمر پر اعتراض آنحضور کے معجزہ شق القمر پر آریوں نے اعتراض کیا کہ آپ اس دعوی میں بچے نہ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ : سو میں پوچھتا ہوں کہ اگر آنحضرت ﷺ جنہوں نے عام اور علانیہ طور پر یہ دھوئی مشہور کر دیا تھا کہ میرے ہاتھ سے معجزہ شق القمر وقوع میں آ گیا ہے اور کفار نے اس کو چشم خود دیکھ بھی لیا ہے مگر اس کو جادو قرار دیا اپنے اس دھوئی میں بچے نہیں تھے تو پھر کیوں مخالفین