آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 304
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 304 أو يَكُونَ بَيْتٌ مِّن زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقُ فِي السَّمَاءِ وَلَن نُّؤْمِنَ لِرَقِيك حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتبًا تُقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَا بشر ا رسُول (بنی اسرائیل : ۹۲ تا ۹۴) آیات مرقومہ بالا سے معلوم ہوتا ہے کفار مکہ نے ایسے چھ معجزہ حضرت علیہ السلام سے طلب کئے جو اُس وقت سر دست منکروں کو دکھائے نہیں گئے۔مگر غور کرو یہ معجزے کیوں طلب کئے گئے اور کیوں انکارفوری ظہور نہ ہوا۔پہلا معجزہ جس کو کفار مکہ نے طلب کیا ہے کہ الارض یعنی اس خاص مکہ کی زمین میں چشمے چلیں۔اور دوسرا معجزہ۔جس کو انہوں نے مانگا یہ ہے کہ تیری کھجوروں اور انگوروں کے ایسے باغ ہوں جن میں نہر میں چلتی ہوں۔یہ دونوں معجزے اس واسطے طلب کئے گئے کہ کتب مقدسہ من بشارات محمد یہ لکھا ہے ہاں میں بیابان میں ایک راہ اور صحرا میں ندیاں بناؤں گا۔اور دشت کے گیڈر اور شتر مرغ میری تعظیم کریں گے کہ تین بیابان میں پانی اور صحرا میں ندیاں موجود کروں گا کہ وے میرے لوگوں کو میرے برگزیدوں کو پینے کے لئے ہو دیں۔میں نے ان لوگوں کو اپنے لئے بنایا وے میری ستائش کریں گے۔یسعیا ۴۳ باب ۱۹۔۲۱ تک اور دیکھو کس نے یعقوب کو حوالہ کیا کہ غنیمت ہوویں اور اسرائیل کو کہ لٹیروں کے ہاتھ میں پڑے۔کیا خداوند نے نہیں جس کے مخالف ہو کے انہوں نے گناہ کیا۔کیونکہ انہوں نے نہ چاہا کہ اس کی راہ چلیں۔یسعیا ۴۲ باب ۲۴۔اور یسعیا کے ۲۱ باب میں عرب کی بابت الہامی کلام یوں ہیں۔پانی لے کے پیاسے کا استقبال کرنے آؤ۔اے تیما کی سرزمین کے باشند وا روٹی لے کے بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو۔یسعیا ۴۱ باب ۱۳ اور پھر کہا ہے۔مزدور کے سے ٹھیک ایک برس میں قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی اور تیراندازوں کے جو باقی رہے قیدار کے بہادر