آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 303
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 303 باب ششم نشان لائے جو اللہ تعالیٰ نے اُن کے واسطے مقر رفرمائے تھے۔ششم اس لئے کہ معجزات کا ظہور اور انبیا کا فرمودہ بھی بتدریج ظہور پذیر ہوتا ہے اور انبیا علیہم الصلوة والسلام چونکہ بشر اور رسول ہوتے ہیں وہ کوئی ایسی مخلوق نہیں ہوتے کہ خدائی ارادے کا خلاف چاہیں۔شریر لوگ ایسے موقت معجزات کو قبل از وقت چاہتے ہیں۔چونکہ وہ معجزات وقت معین پر ظاہر ہونے والے اور مشروط بشرائط ہوتے ہیں اس لئے قبل از تحقق شرائط اور اس وقت معین کے ظہور پذیر نہیں ہو سکتے۔مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان بنی اسرائیل سے جو فرعون کی سخت تکالیف اٹھا رہے تھے وعدہ ہوا کہ تم کو کنعان وغیرہ وغیرہ کا ملک عطا ہو گا دیکھو تو رہیت۔میں نے اپنے لوگوں کی تکلیف جو مصر میں ہیں۔یقینا ویکھی اور ان کی فریا د جو خراج کے محصولوں کے سبب سے ہے سنی اور میں ان کے دکھوں کو جانتا ہوں۔اور میں نازل ہوا ہوں کہ انہیں مصریوں کے ہاتھ سے چھڑاؤں اور اس زمین سے نکال کے اچھی وسیع زمین میں جہاں دودھ اور شہد موج مارتا ہے لے جاؤں۔کنعانیوں ، حقیوں ، اموریوں ، فرزیوں، جو یوں ، پیوسیوں کی جگہ میں لاؤں خروج ۳ باب ۹۷۔مگر دیکھو یہ وعدہ اس قوم کے حق میں پورا نہ ہوا۔جنہوں نے فرعون سے دیکھا تھایا۔دیکھو:۔خداوند نے تمہاری باتیں سنیں اور محصہ ہوا اور قسم کھا کے یوں بولا کہ یقینا ان شریر لوگوں میں ایک بھی اس اچھی زمین کو جس کے دینے کا وعدہ میں نے ان کے باپ دادوں سے قسم کھا کے کیا ہے نہ دیکھے گا۔مگر کھنہ کا بیٹا کالب اسے دیکھے گا استثنا۔اباب ۳۵ ۳۶۔ایسے ہی چند معجزات کفار مکہ نے طلب کئے ہیں جن کا ذکر ذیل میں ہے۔ا وَقَالُوا لَنْ تَؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجَرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعًا (بنی اسرائیل (۹۱) ٢ أو تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِنْ نَّخِيرٍ وعَتَبٍ فَتُفَجَرَ الْأَنْهَر خِلْلَهَا تَفْجِيرًا أو تُسْقِطَ السَّمَاءِ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللهِ وَالْمَلَكَةِ قَبِيلاً