آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 302 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 302

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 302 باب ششم خلاف تھے۔اور ایسے معجزات کو مخالف لوگ اس واسطے طلب کرتے تھے کہ اگر یہ معجزات خلاف بشارات ظہور پذیر ہوئے تو ہم بتا رات اور حضور کی ان پیش گوئیوں کے ذریعہ حضور پر اعتراض کریں گے جو انبیا نے کتب مقدسہ میں حضور کے حق میں کہتے ہیں۔اور اگر ایسے معجزات بلحاظ ان بشا رات کے ہم کو دکھائے نہ گئے تو معجزات کے نہ ہونے کا الزام قائم کردیں گے مثلاً حضور علیہ السلام کی نسبت ایک بشارت میں یہ آیا ہے کہ جو کلام اس نبی موعود پر اترے گا وہ ایک دفعہ کتاب کے طور پر نازل نہ ہو گا بلکہ وہ کلام اس نبی موعود صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں رکھا جائے گا کچھ یہاں اور کچھ وہاں غور کرو کتب مقدسہ کی آیات ذیل:۔ان کے بھائیوں میں سے تجھے سال ایک نبی ہے پاکروں گا۔اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔استثنا ۸ باب ۱۸ حکم پر حکم حکم پر حکم قانون پر قانون۔قانون پر قانون ہوتا جاتا تھوڑا۔یہاں تھوڑا وہاں۔ہاں وہ وحشی (عربی) کیسے ہونٹوں اور اجنبی زبان سے اس گروہ سے باتیں کرے گا۔سعیا۔۲۸ باب ۹۔ان آیات سے صاف عیاں ہے کہ اس نبی موعود کو جو کلام عطا ہو گا وہ اس نبی کے منہ میں ڈالا جاوے گا اور بتدریح نازل ہوگا۔کچھ یہاں کچھ وہاں یعنی کچھ مکہ میں اور کچھ مدینہ میں کچھ کہیں کچھ کہیں۔اب قرآن کریم کی طرف نگاہ کرو اس میں ایک جگہ لکھا ہے۔کافر کہتے ہیں :۔تَرْقَى فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرَقِيكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتُبٌ تَقَرَؤُهُ (بنی اسرائیل (۹۴) تو اے محمد چڑھ جا آسمان میں اور ہم تیرے چڑھنے پر تجھے نہ مانیں گے جب تک اوپر سے ایسی کتاب نہ لاوے جس کو ہم پڑھ لیں۔اب بتلائیے اس طلب کا بجز اس کے کیا جواب ہو سکتا ہے کہ پاک ذات ہے میرا رب اس نے میرے لئے جو تجویز فرما دی وہ ناقص نہیں کہ اب اس تجویز کو بدلا دے اور میں تو بشر رسول ہوں۔بشر رسول تو ہمیشہ وہی معجزات دکھاتے رہے جو ان کی بشارت کے بر خلاف نہ تھے اور وہی