آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 301 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 301

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 301 باب ششم دوسری صورت یعنی اگر الف اور لام سے عموم اور استغراق کیا جاوے تو یہ معنی ہوں گے۔کل آیات کے ارسال سے پہلوں کی تکذیب نے روکا " مگر اس سے یہ نہیں نکلتا کہ کوئی بھی معجزہ نہیں بھیجیں گے۔چہارم اس لئے کہ اس ما منحنا والی آیت سے اتنا ہی نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو عجزات کے بھیجنے سے تکذیب کے ماورا کسی چیز نے نہیں روکا اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی روک نہیں۔کہیں منکروں کی تکذیب سے باری تعالی حجت بند کر دیتا ہے ؟ ہمیشہ انبیا علیہم الصلوۃ والسلام کی تکذیب ہوئی مگر وہ آتے رہے ہمیشہ معجزات پر تکذیب ہوا کی اور منجزات ہوا کئے۔الہی طاقتیں اور قوتیں منکرین کی روک سے رکتی نہیں۔متعنا لفظ کے معنے ہیں روکا ہم کو۔اس لفظ کے یہ معنی نہیں کہ ہم رک گئے۔ہاں اگر قرآن کریم میں یوں ہوتا۔مَا امْتَنَعَنَا أَنْ تُرْسِلَ بِالَا يَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا أَلَا وَلَوْنَ جس کے معنی ہیں نہیں رکے ہم آیات اور نشانات کے بھیجنے سے مگر اس لئے کہ پہلوں نے تکذیب کی۔تو البتہ منکرین معجزہ تقریر کچھ تھوڑی دور تک چل پڑتی مگر قرآن میں امنعنا نہیں منعنا ہے جس کے معنی ہیں روکا ہم کو نہ یہ کہ نہ رکے ہم۔غرض تکذیب نے روکا اور باری تعالیٰ نہ رکا۔روکنے کے ثبوت میں بفرض و تسلیم یہی آیت اور نہ روکنے کاثبوت وہ آیات ہیں جن میں ثبوت آیات ہے وَالْقُرْآنُ مُتَشَابِهَا أَى يُصْلِقُ بَعْضَهُ بَعْضاً قرآن کریم کی آیات متشابہ ہیں یعنی ایک آیت دوسری آیت کے مصدق ہوتی ہے نہ اس کے مخالف اور کذب هَذَا أَيْضًا بِفَاتِيدِ رُوحِ الْقُدُسِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمين پنجم اس لئے کہ بعض وہ معجزات جن کو یہودی اور عیسائی اور اہل مکہ اہل کتاب کے سمجھانے اور بہکانے سے پوچھتے تھے جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی پیش گوئیوں اور بشارتوں کے بالکل