آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 300
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 300 باب ششم نحو کی بڑی بڑی کتا ہیں۔اور ثبوت کے لئے دیکھو یہ آیت شریف : - ان لا يخافُ لَدَى الْمُرْسَلُونَ إلا من ظلم ثُمَّ بَالَ حُسْنًا بَعْدَ سُوء العمل: ۱۲۱۱) اللہ تعالی فرماتا ہے میرے پاس میرے رسولوں اور انہیں خوف ہی نہیں جنہوں نے گناہ کرتے کرتے گناہوں کو چھوڑ دیا اور گناہوں کے جابجا نیکی کرنے لگے۔امام احفش۔امام فراء امام ابو عبید ائمہ لغت و نحو نے کہا ہے یہاں الا واؤ کے معنے پر آیا ہے ایسے ہی آیت شریف بتلا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حَجَّةٌ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ (البقرة: (۱۵) تو کہ نہ رہے تم پر عام لوگوں اور خاص کر بدکاروں کی کوئی حجت اور دلیل۔پھر اس تحقیق پر منکرین کے پیش کردہ آیت یہ معنی ہوں گے:۔اور نہیں منع کیا ہم کو آیات کے بھیجنے سے کسی چیز نے اور منکروں کی تکذیب نے۔اور یہ عطف خاص کا ہو گا عام پر۔غور کرو منکروں کی تکذیب ہرگز ہرگز معجزات کے روکنے والے نہیں۔اگر ان کی تکذیب روکتی تو فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بڑے بڑے معجزات کا انکار کیا تھا پھر کیا اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو معجزات عطا نہ کئے بلکہ منکر ہمیشہ انکار کرتے رہے اور منجزات بھی آتے رہے۔وَالحَمدُ لِلهِ رَبِّ العلمين وهذا بِفَائِيدِ رُوح القدس - تیسرا اس لئے کہ ہم نے مان لیا یہاں الا کا لفظ زائد نہیں۔عاطفہ بھی نہیں۔استثنا کے واسطے ہے۔الآیات کا الف اور لام عہد اور خصوصیت کے معنے دے گا یا عموم اور استغراق کے۔پہلی صورت عہد اور خصوصیت کی اگر ہو گی تو آیت کے یہ معنے ہوں گئے اور نہیں منع کیا ہم کو خاص آیات کے بھیجنے سے مگر پہلوں کی تکذیب نے “۔اس سے یہ نکلا کہ خاص آیات اور کوئی خاص معجزات نہ آدیں گے۔اس سے عموم معجزات کی نفی ثابت نہیں ہوتی۔