آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 299 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 299

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 299 باب ششم الله یوں نہیں آیا کہ ہم نے نشانات نبوت محمد ﷺ کو نہیں دیئے۔معجزوں کے انکار پر جن آیات سے سائل اور اس کے کسی ہم خیال عیسائی اور ان کے پیرو آریہ نے استدلال کیا ہے ان آیات پر مفصل گفتگو تصدیق براہین میں دیکھو اور بقد رضرورت یہاں عرض ہے:۔پہلے وہ آیت جس سے نبی عرب اور محسن تمام خلق صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے منکروں نے دھو کہ کھایا ہے اور جس کا ذکر بہت سننے میں آیا ہے یہ ہے:۔وما منعنا أن ترسل بالايت إلا أن كَذَّبَهَا الْأَوَلَوْنَ (بنی اسرائیل (۲۰) اس آیت شریف سے منکرین نے یقین کیا ہے کہ حضرت نبی عرب پر معجزہ کا ظہور نہیں ہوا کیونکہ معنے اس آیت کے یہ سمجھے ہیں کہ پہلوں نے معجزات کو جھٹلایا۔اس واسطے ہم معجزات کے بھیجنے سے رک گئے مگر یہ ان کا خیال غلط ہے۔اول اس لئے کہ معجزات اور آیات کے وجود کا تذکرہ قرآن کریم میں بکثرت موجود ہے اور محمد صاحب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے معجزات کے نہ ماننے والوں کو اس لئے کہ ہداہت اور موجودہ چیز کے منکر ہیں ظالم اور فاسق اور کافر کہا ہے۔اور الا کا لفظ جو ما منعنا والی آیت میں ہے عرب کی زبان میں جن کی بولی پر قرآن کریم ہے زائد بھی آتا ہے۔دیکھوڈوا کر مہ کایہ قول حراجيح ماننفك الا مناخته على الخف اونرمي بها بـذا فقراً میرے لیے قد کی اونٹنی ذلیل بیٹھی رہتی ہے یا اس پر دور دراز کے بے آب و گیاہ میدانوں کا سفر کرتا ہوں۔دیکھو اس تحقیق پر۔اس آیت شریف کے معنی جس کو منکرین معجزہ پیش کرتے ہیں یہ ہوئے اور نہیں منع کیا ہم کو نشانوں کے بھیجنے سے پہلوں کی تکذیب نے کم سے کم یہ آیت انکار مجز و پر صاف اور واضح دلیل نہ رہی کیونکہ اس آیت سے معجزہ کا ثبوت لکھتا ہے بنیفی۔وَالحَمدُ لِلهِ رَبِّ العَلَمِينَ إِن هذ إلا بتائيد رُوح الفلس۔دوم اس لئے کہ الا ایک حرف ہے جس کے معنے واڈ عاطفہ بھی آتے ہیں۔دیکھو معانی اور