آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 298
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 298 باب ششم رب سے تو کہہ نشانیاں تو اللہ پاس ہیں۔وہی بھیجتا ہے اور میں نہ ماننے والوں کو کھلا ڈر سے خبر دینے والا ہوں۔کیا اُن کو یہ نشانیاں کافی نہیں جو ہم نے اتاری تیری طرف کتاب پڑھی جاتی ان پر۔منصف عیسائیو! اگر لفظ آیت جس کے معنے نشانی کے ہیں اور لفظ آیت کی جمع لفظ آیات کے معنے معجزے کے ہیں۔تو قرآن کریم بہت جگہ معجزہ کو ثابت کرتا ہے اور بتا تا ہے کہ محمدی معجزوں کے منکر جن کو آیہ کہا جاتا ہے کافر ہیں فاسق ہیں اور ظالم غور کرو۔وَلَقَدْ أنْزَلْنَا اليك أَيْت بَيْتٍ وَمَا يَكْفُرُ بِهَا إِلَّا الْفُتُونَ (البقرة: (١٠٠) اور بے شک ضرور ہی بھیجیں ہم نے تیرے پاس کھلی نشانیاں اور اُن کا منکر کوئی نہیں مگر فاسق لوگ۔بل هو انت بَيْن في صُدُورِ الَّذِينَ أوتُوا الْعِلْمَ وَمَا يَجْحَدُ بِايْتِنَا إِلَّا القلمون (العنکبوت :۵۰) بے ریب کھلے نشان ہیں علم والوں کے دلوں میں اور ہمارے نشانوں سے ظالموں کے سوا کوئی بھی منکر نہیں۔شهر ماونهم جَهَنَّمُ كُنت احبَتْ زِدْتَهُمْ سَعِيرًا ذلك جَزَاؤُهُمْ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِايْنَا (بنی اسرائیل: ۹۹۰۹۸) عرب کے منکروں کو سورۃ بنی اسرائیل میں حکم ہوتا ہے ان لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہی ہو گا جب بجھنے لگے اس کی آگ کو زیادہ تیز کریں گے یہ اس لئے کہ ان کو بدلہ ہے اس کفر کا جو انہوں نے ہمارے نشانوں سے کیا۔یا دداشت ہم پہلے سوال کے جواب میں لکھ چکے ہیں قرآن کریم میں ہرگز ہرگز اختلاف نہیں۔جب قرآن کریم نے بتا دیا ک محمد صلی اللہ علیہ کی صداقت پر ہم نے نشان بھیجے تو ایسا ہر گز ممکن نہ ہوگا کہ قرآن میں یہ بھی لکھا کہ ہم نے نشان نبوت حضرت نبی عرب کو نہیں دیئے کیونکہ ایسا ماننے سے قرآن میں اختلاف ہو جائے گا اور قرآن میں اختلاف نہیں۔علاوہ ہر میں کسی قرآنی آیت میں