آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 296 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 296

آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 296 باب ششم اسکر یوطی پر ) اس جگہ صاحب موصوف یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر نبی عربی (ﷺ) کے صحابہ کے مقابلہ پر حواریوں کی روحانی تربیت یابی اور دینی استقامت کا موازنہ کیا جائے تو ہمیں افسوس کے ساتھ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح کے حواری روحانی طور پر تر بیت پذیر ہونے میں نہایت ہی کچے اور پیچھے رہے ہوئے تھے اور ان کے دماغی اور دلی قومی کو حضرت مسیح کی صحبت نے کوئی ایسی توسیع نہیں بخشی تھی جو صحابہ نبی (ع) کے مقابل تعریف ہو سکے بلکہ حواریوں کی قدم قدم میں بزدلی ،ست اعتقادی، تنگدلی دنیا طلبی، بیوفائی ثابت ہوتی تھی۔مگر صحابہ نبی عربی ( ) سے وہ صدق و فاظہور میں آیا جس کی نظیر کسی دوسرے نبی کے پیروؤں میں ملنا مشکل ہے سو یہ اس روحانی تربیت کا جو کامل طور پر ہوئی تھی اثر تھا جس نے اُن کو نگلی مبدل کر کے کہیں کا نہیں پہنچا دیا تھا۔اسی طرح بہت سے دانشمند انگریزوں نے حال میں ایسی کتابیں تالیف کی ہیں کہ جن میں انہوں نے اقرار کر لیا ہے کہ اگر ہم نبی عربی (ﷺ) کی حالت رجوع الی اللہ و تو مکمل و استقامت ذاتی و تعلیم کامل و مطہر والقائے تاثیر واصلاح خلق کثیر از مفسدین و تائیدات ظاهری و باطنی قادر مطلق کو ان منجزات سے الگ کر کے بھی دیکھیں جو بد منقول ان کی نسبت بیان کی جاتی ہیں تب بھی ہمارا انصاف اس اقرار کے لئے ہمیں مجبور کرتا ہے کہ یہ تمام امور جو اُن سے ظہور میں آئے یہ بھی بلاشبہ فوق العادت اور بشری طاقتوں سے بالاتر ہیں اور نبوت صحیحہ صادقہ کے شناخت کرنے کیلئے قومی اور کافی نشان ہیں۔کوئی انسان جب تک اس کے ساتھ خدائے تعالیٰ نہ ہو کبھی ان سب باتوں میں کامل اور کامیاب نہیں ہو سکتا اور نہ ایسی غیبی تائید میں اُس کے شامل ہوتی ہیں۔ایک عیسائی کے تین سوال اور انکے جوابات، روحانی خزائن جلد نمبر ۴ صفحه ۴۲۷ ۴۵۳) ☆ اس اعتراض کا جواب حضرت حکیم مولانا نورالدین خلیفہ امسح الاول ان الفاظ میں تحریر فرماتے ہیں: پہلا جواب۔جن آیات کریمہ کا سائل نے حوالہ دیا ہے اور ان سے استدلال کیا ہے کہ حضور بادی اسلام سے کوئی معجزہ ظہور پذیر نہیں ہوا ان میں معجزہ کا لفظ بالکل موجود نہیں پس آیات